وقف بل کے خلاف احتجاج: کولکاتا، رانچی میں مظاہرے، احمد آباد میں 50 افراد زیرِ حراست
22
M.U.H
04/04/2025
نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں وقف بل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ احمد آباد میں جمعہ کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر بل کی مخالفت کی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرے کے دوران ماحول کشیدہ رہا لیکن پولیس نے صورتحال قابو میں رکھی۔
ادھر، مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں بھی وقف بل کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین نے ’وقف بِل واپس لو‘ کے نعرے لگائے اور حکومت کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔ اسی طرح، جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں بھی مسلم برادری کے افراد نے بل میں ترمیم کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
رپورٹس کے مطابق، جمعہ کی نماز کے بعد رانچی کی ایکرا مسجد کے باہر مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا کر اپنی مانگیں رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف بِل میں تبدیلی سے ان کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
بہار کے جمئی میں بھی جمعہ کی نماز کے بعد رضا نگر گوثیہ مسجد کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور دیگر رہنماؤں کے خلاف نعرے بازی کی اور آئندہ انتخابات میں حکومت کو سبق سکھانے کی بات کہی۔
دوسری جانب، اتر پردیش میں پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔ خاص طور پر لکھنؤ، سنبھل، بہرائچ، مرادآباد، مظفرنگر اور سہارنپور سمیت کئی حساس اضلاع میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے پرانے لکھنؤ کے حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی ہے اور ڈرون و سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے۔
یوپی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لکھنؤ میں 61 حساس مقامات کو ہاٹ اسپاٹ قرار دے کر وہاں اضافی سکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔
مہاراشٹر کے ناگپور میں بھی پولیس نے الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو پرتشدد مواد سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی حرکت پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ وقف بل کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج کو دیکھتے ہوئے ملک کے کئی شہروں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔