’وقف بل جبراً مسلط کیا گیا‘، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں سونیا گاندھی کا اظہارِ خیال
26
M.U.H
03/04/2025
کانگریس کی سابق صدر اور راجیہ سبھا رکن سونیا گاندھی نے وقف ترمیمی بل کے حوالے سے حکمراں جماعت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے بل اور اسے منظور کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے کی گئی جلد بازی پر سخت تنقید کی ہے۔ سونیا گاندھی کے مطابق یہ بل جبراً پاس کرایا گیا ہے اور اسے زبردستی مسلط کیا گیا ہے۔ مذکورہ باتیں سونیا گاندھی نے کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی جنرل باڈی میٹنگ میں کہیں۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی کے علاوہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی موجود تھے۔
قابل ذکر ہے کہ وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا میں پیش کیے جانے سے قبل سی پی پی کی یہ میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’کل لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پاس ہو گیا اور آج اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جانا ہے۔ اس بل کو جبراً پاس کیا گیا ہے۔ ہماری پارٹی کا موقف واضح ہے۔ یہ بل آئین پر ایک حملہ ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کو مستقل طور پر پولرائزڈ رکھنے کی بی جے پی کی منصوبہ بند حکمت عملی کا حصہ ہے۔‘‘ اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت ملک کو کھائی میں ڈھکیل رہی ہے۔ حکومت تعلیم، شہریوں کے حقوق، لوگوں کی آزادی، ہمارے وفاقی ڈھانچے اور انتخابات کے انعقاد کسی کو بھی نہیں بخش رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ہمارا آئین صرف کاغذوں پر رہ جائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کا ارادہ اسے بھی تباہ کرنے کا ہے۔
میٹنگ میں اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’ہم تمام کے لیے ضروری ہے کہ ہم صحیح اور انصاف کے لیے لڑتے رہیں۔ مودی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کریں۔ حکومت ہر چیز پر نظر رکھنا چاہ رہی ہے۔ ہمیں اسے لوگوں کے سامنے لانا ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم نے 2014-2004 کے دوران کیے گئے کئی اقدامات کو اپنی ذاتی کامیابیوں کے طور پر ری برانڈ، ری پیکج اور مارکیٹنگ کیا ہے۔
سونیا گاندھی نے دونوں ایوانوں کے کام کاج پر بولتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن لیڈران کو بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکمراں جماعت اکثر کانگریس کو اپنے مسائل اٹھانے کی اجازت نہ دینے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی ہے۔ بی جے پی کے اراکین کانگریس کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کے لیے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے گزارش کی ہے کہ وہ بھی اسی طرح جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کی ناکامیوں اور غلط حکمرانی کو سب کے سامنے لائیں۔