’ثابت کرو، میں استعفیٰ دے دوں گا‘، مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کے الزام پر ملکارجن کھڑگے کا چیلنج
19
M.U.H
03/04/2025
۔2اپریل کو لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے پر وقف کی زمین قبضہ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔ اس معاملے میں آج کھڑگے نے راجیہ سبھا میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر کے ذریعہ وقف کی زمین قبضہ کرنے کے الزامات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بی جے پی والے جو الزام لگا رہے ہیں، ثابت کر دیں۔ میں ٹوٹ جاؤں گا، لیکن میں کبھی جھکوں گا نہیں۔ اگر آپ ثابت کر دیں گے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔‘‘
کھڑگے نے انوراگ ٹھاکر کے بیان پر اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ ’’میرے پاس ایک انچ بھی وقف کی زمین نہیں ہے۔ انوراگ ٹھاکر نے لوک سبھا میں جو کچھ کہا، وہ غلط ہے۔ وہ معافی مانگیں۔ میرے پاس وقف کی ایک انچ بھی جگہ نہیں ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی کے لوگ مجھے ڈرانا چاہتے ہیں، میں بالکل جھکوں گا نہیں۔ میں نے ایک انچ آج تک کسی کی زمین نہیں لی۔ میرے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔‘‘ کھڑگے نے انوراگ ٹھاکر سے استعفیٰ دینے کا بھی مطالبہ کیا، اور کہا کہ ’’انوراگ ٹھاکر نے جو الزام لگایا ہے، اگر وہ ثابت نہیں کر پائے تو استعفیٰ دے دیں، اور اگر مجھ پر الزام ثابت ہوتا ہے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔‘‘
کھڑگے نے خود کو دلت کا بیٹا بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی ہمیشہ ایک کھلی کتاب رہی ہے۔ یہ جدوجہد اور پریشانیوں سے بھری رہی، لیکن زندگی میں ہمیشہ اعلیٰ اقدار کو برقرار رکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کل انوراگ ٹھاکر نے لوک سبھا میں مجھ پر پوری طرح سے جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگائے۔ میرے ساتھیوں نے چیلنج پیش کیا تو انھیں اپنا تبصرہ واپس لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ لیکن نقصان ہو چکا ہے۔‘‘