وقف ترمیمی بل کے خلاف سڑک پر اترے گا مسلم پرسنل لاء بورڈ، احتجاج کو ملک بچانے کی لڑائی قرار دیا
25
M.U.H
03/04/2025
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے کہا ہے کہ وہ وقف ترمیمی بل کو عدالت میں چیلنج کرے گا اور لوگوں کے حقوق کو خطرے میں ڈالنے والے اس سیاہ قانون کے خلاف لڑائی کو سڑکوں تک لے جائے گا۔
وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں مجوزہ قانون کی تنقید کرتے ہوئے بورڈ کے رکن محمد ادیب نے کہا کہ یہ مسلم طبقہ کی جائیداد کو ضبط کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ انہوں نے (مرکزی حکومت) اسے اس سوچ سے شروع کیا ہے کہ وہ ہماری جائیداد چھین سکتے ہیں۔ کیا اسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ یہ مت سوچیئے کہ ہم ہار گئے ہیں۔‘‘
محمد ادیب نے کہا کہ یہ تو شروعات ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں غور و فکر کے دوران بل کی مخالفت کی گئی۔ یہ ملک کو بچانے کی لڑائی ہے کیونکہ مجوزہ قانون ہندوستان کے تانے بانے کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
اس موقع پر اے آئی ایم پی ایل بی کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کو پیش کرنے سے پہلے اہم معاملوں پر غور نہیں کیا گیا۔ ایک معاملے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفعہ 3سی2 میں ڈی ایم کی جگہ فیصلہ لینے کا حق نامزد افسر کو دے دیا گیا ہے۔ اس سے معاملہ اور زیادہ بگڑ گیا ہے، اب یہ مسئلہ زیادہ پیچیدہ بن جائے گا۔
قاسم رسول الیاس نے آگے کہا، ’’ہمیں ڈی ایم کے کردار کو لے کر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہمیں اعتراض اس بات کو لے کر ہے کہ جو بھی سرکاری افسر اس میں شامل کیا جائے گا، وہ زیادہ تر حکومت کے حق میں ہی فیصلہ دے گا۔ اس سے وقف کے حق میں کوئی بھی نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس میں ایک اور ضابطہ ہے کہ وقف کی تخلیق ایک باعمل (پریکٹسنگ) مسلمان ہی کر سکتا ہے۔ اب حکومت کیسے طے کرے گی کہ کون سا شخص باعمل مسلمان ہے یا نہیں۔ حکومت نے ہمارے مشوروں کو نہیں مانا۔ مسلمانوں سے وقف کا نظام لے لیا گیا ہے۔ وراثت کے حق کو ختم کیا جا رہا ہے۔