پولیس اپنی حدیں پار نہ کرے، مجرم کے ساتھ بھی قانون کے مطابق ہی سلوک ہونا چاہیے: سپریم کورٹ
24
M.U.H
03/04/2025
سپریم کورٹ نے سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو انتباہ کیا ہے کہ گرفتاری سے متعلق قوانین، ضابطوں اور رہنما اصول کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ عدالت عظمیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ مجرم کے ساتھ بھی قانون کے مطابق ہی سلوک کیا جانا چاہیے، جو کچھ مجرمین کے حقوق اور تحفظ کی گارنٹی دیتا ہے۔
جسٹس احسان الدین امان اللہ اور جسٹس پرشانت کمار مشرا کی بنچ نے کہا کہ پولیس ریاستی نظام کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا سماج اور خاص طور سے لوگوں کے تحفظ پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ عدالت نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ پولیس افسروں کو اپنی حد نہیں پار کرنی چاہیے۔ عدالت نے کہا، ’’پولیس میں لوگوں اور سماج کا یقین بنائے رکھنا بہت ضروری ہے۔‘‘
بنچ نے 26 مارچ کو اپنے ایک حکم میں کہا، ’’پہلی نظر میں اسے دیکھنے سے یقین پیدا نہیں ہوتا بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے صرف رسمی طور پر پیش کیا گیا ہے۔‘‘
دراصل سپریم کورٹ کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک شخص نے الزام لگایا کہ ہریانہ پولیس نے اسے گرفتاری قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حراست میں لیا اور حراست کے دوران پولیس تھانہ کے اندر اس کے ساتھ جسمانی زیادتی کا سلوک کیا گیا۔ اس دلیل کی حمایت میں عرضی دہندہ کے وکیل نے اپنے بھائی کے ذریعہ اسی دن صبح تقریباً 11:24 بجے متعلقہ ایس پی کو اپنے بھائی کی مبینہ گرفتاری کے تعلق سے بھیجے گئے ای میل کا حوالہ دیا۔
وکیل نے الزام لگایا کہ پولیس تھانہ میں جسمانی اذیت دی گئی۔ جب افسروں کو ای میل بھیجا گیا اور دو گھنٹے بعد تقریباً 11:30 بجے معاملہ درج کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے متعلقہ پولیس افسروں کو مستقبل میں اس طرح کی حرکت نہیں کرنے کے لیے انتباہ کیا۔
سپریم کورٹ نے سبھی ریاستوں کے ڈی جی پی کو جاری رہنما اصول میں متعلقہ پولیس افسروں کو مستقبل میں اس تعلق سے ہوشیار رہنے کے لیے آگاہ کیا۔ حکم میں کہا گیا، ’’ڈی جی پی کو یہ یقینی کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہونے پائیں اور کسی بھی ماتحت افسر کے ذریعہ اختیار کے کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کے سلسلے میں سینئر افسر کی طرف سے زیرو ٹالرنس برتنی چاہیے۔‘‘
بنچ نے آگے کہا، ’’ایسا نہیں کرنے پر جب بھی یہ معاملہ ہماری نوٹس میں آئے گا، تو بہت سخت رخ اپنایا جائے گا اور قصورواروں کے خلاف تعزیری کارروائی بھی کی جائے گی۔‘‘