امریکی نائب صدر: ٹرمپ ایران کے سلسلے میں عراق کا تجربہ دوہرانا نہیں چاہتے
9
M.U.H
05/02/2026
تہران: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر ایران کے لیے سفارتی اور غیرفوجی راستوں کو طے کریں گے۔
جے ڈی وینس نے امریکہ کی روائتی دھونس دھمکیوں کو دوہراتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر امریکی صدر اس نتیجے پر پہنچ جائيں کہ فوجی طریقہ کار واحد راہ حل ہے تو ان کے بقول اس پر ضرور عمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ البتہ واشنگٹن کی ترجیح سفارتکاری ہے اور ٹرمپ عراق کا تجربے کو ایران کے سلسلے میں دوہرانا نہیں چاہتے۔
امریکی نائب صدر نے ایران پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر مغربی ایشیا میں ایٹمی توازن بگڑ گیا تو سعودی عرب بھی اسی راستے پر گامزن ہوسکتا ہے۔
امریکی قیادت کی جانب سے ایسے دعوے ایسی حالت میں کیے جا رہے ہیں کہ ایران پر مسلط کردہ بارہ روزہ امریکی- اسرائیلی جنگ میں جب ایران نے امریکہ کے العدید بیس کو جوابی کارروائی کے تحت نشانہ بنایا تو واشنگٹن نے فورا امن کی پیش کش کردی حالانکہ اس سے پہلے ایران کو دھمکیاں دیتے پھر رہے تھے۔
یاد رہے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے گزشتہ دنوں انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف جارحیت کی تو یہ جنگ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوجائے گی۔