ایس آئی آر عمل میں کسی کو بھی رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی: سپریم کورٹ
25
M.U.H
09/02/2026
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ وہ ووٹر لسٹ کے خصوصی گہری نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن – ایس آئی آر) کے عمل میں کسی کو بھی رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بینچ نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ضرورت کے مطابق احکامات یا وضاحتیں جاری کرے گی۔ بینچ نے یہ ریمارکس مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔
ان درخواستوں میں ریاست کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی درخواست بھی شامل ہے، جس میں ایس آئی آر مشق کے دوران ووٹروں کی فہرست سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ بینچ نے کہا، ہم کسی کو بھی ایس آئی آر کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ریاستوں کو یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے کا بھی نوٹس لیا، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر نے ایس آئی آر سے متعلق نوٹس جلا دیے۔ عدالت نے اس معاملے پر مغربی بنگال کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اب تک شرپسندوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا، یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہندوستان کا آئین تمام ریاستوں پر لاگو ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو گروپ-بی کے 8,505 افسران کی فہرست فراہم کیے جانے کا بھی نوٹس لیا اور کہا کہ ان افسران کو ایس آئی آر عمل میں تربیت دے کر تعینات کیا جا سکتا ہے۔
بینچ نے واضح کیا کہ ووٹر لسٹ میں ترمیم سے متعلق حتمی فیصلہ ہمیشہ ووٹر لسٹ افسران ہی کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ ان 8,505 افسران کی تعیناتی کا طریقہ کار اور ذمہ داریاں الیکشن کمیشن طے کرے گا۔ سماعت کے دوران ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل شیام دیوان نے ایس آئی آر عمل میں مائیکرو آبزرورز کی تعیناتی اور بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام حذف کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ دیوان نے بینچ سے کہا، ہم نہیں چاہتے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں لوگوں کے نام نکال دیے جائیں۔