وزیر خارجہ ایران کا دوٹوک اعلان؛ یورینیئم افزودگی ایران کا مسلمہ حق ہے،میزائل صلاحیت پر کوئی مذاکرات نہیں!
29
M.U.H
08/02/2026
تہران: سید عباس عراقچی وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تاکید کی کہ ایران اپنے میزائلوں کے بارے میں مذاکرات نہیں کرے گا کیونکہ یہ ایک دفاعی معاملہ ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے الجزیرہ چینل کو انٹرویو میں واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ایک اچھا آغاز قرار دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی اعتماد سازی کے لیے ایک طویل راستہ باقی ہے۔
عراقچی نے اس انٹرویو میں تاکید کی کہ گزشتہ روز کے مذاکرات بالواسطہ اور صرف جوہری معاملے پر تھے۔
وزیر خارجہ ایران عباس عراقچی نے کہا کہ یورینیئم افزودگی کی ممانعت ایران کے نقطہ نظر سے قابلِ مذاکرہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے اور وہ حتیٰ بمباری کے باوجود بھی ایران کی اس حوالے سے صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران افزودگی کے حوالے سے ایک پُرامن معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔
عراقچی نے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں بھی کہا: نہ اب اور نہ ہی مستقبل میں میزائلوں کے بارے میں مذاکرات نہیں کیے جا سکتے کیونکہ یہ ایک دفاعی معاملہ ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ ایران کا جوہری معاملہ صرف مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات کے بارے میں بھی کہا کہ ابھی تک اُن مذاکرات کے لیے وقت مقرر نہیں ہوا ہے لیکن تہران اور واشنگٹن اس بات پر متفق ہیں کہ یہ جلد ہونا چاہیے۔
عراقچی نے امریکہ کے ممکنہ حملے کے معاملے پر کہا کہ ہمارے لیے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ اگر امریکہ ہم پر حملہ کرے تو ہم امریکہ کی سرزمین پر حملہ کریں، لیکن اگر ایران پر حملہ ہوا تو ہم خطے میں امریکہ کے اڈوں کو ضرور نشانہ بنائیں گے۔
وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ اگر ایران پر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران ہمسایہ ممالک پر حملہ نہیں کرے گا بلکہ امریکہ کے اڈوں پر حملہ کرے گا اور اڈوں پر حملے اور ہمسایہ ممالک پر حملے میں فرق ہے۔