مذاکرات کا نیا دور جوہری مسئلے کے منصفانہ حل کا بہترین موقع ہے: صدر ایران
3
M.U.H
09/02/2026
تہران:صدر مملکت نے قومی اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور میدان عمل میں عوام کی مسلسل موجودگی کو ایران کی بقا اور کامیابی کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلط کردہ جنگ، پابندیوں، اور اقتصادی و سیاسی دباؤ کے باوجود ثقافتی، سائنسی اور صنعتی شعبے سمیت مختلف میدانوں میں ایران کی کامیابیاں، حکومت کی جانب کی قومی عزم و ارادے پر بھروسے کا نتیجہ ہے۔
اسلامی انقلاب ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر تہران میں غیر ملکی سفیروں کو دیئے سالانہ ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایران مسعودی پزشکیان اس انقلاب کی خصوصیات پر روشنی ڈالی اور اقتدار کے ڈھانچے میں جمہوریت جڑوں کو انتہائی مستحکم قرار دیا۔
انہون نے یاد دھانی کرائي کہ انقلاب کی فتح کے فورا بعد ہی ملک کے سیاسی نظام کی نوعیت کا تعین کرنے کی غرض سے عوام کی براہ راست شرکت کے ذریعے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کیا گیا اور کم سے کم وقت میں آئین کا مسودہ تیار کیا ہے اور اس کی منظوری دی ہے۔
صدر مملکت نے غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت اور بعض مغربی حکومتوں کی خاموشی اور انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب کے دوہرے معیار پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اپنی آزادی، ارضی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے میدان میں متحد اور ثابت قدم ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کو باعزت سفارت کاری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کو علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کا پائیدار حل سمجھتا ہے۔
صدر نے پڑوسی ممالک کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ جوہری مذاکرات کو منصفانہ اور متوازن حل کے حصول کا ایک اہم موقع قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں رہتے ہوئے اپنے جوہری حقوق کی ضمانت کا حصول اور ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔
پیزشکیان نے دنیا بھر کے ممالک سے بھی مخلصانہ تعاون کی کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خاص طور سے اپنے پڑوسی اور علاقائی ممالک کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔