لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف کانگریس کا عدم اعتماد نوٹس، 118 ارکان نے کی حمایت
12
M.U.H
10/02/2026
کانگریس نے منگل کے روز لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا باضابطہ نوٹس داخل کر دیا، جس کی حمایت 118 ارکانِ پارلیمنٹ نے کی ہے۔ اس اقدام نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے، جو پہلے ہی ایوان کی کارروائی کے طریقۂ کار اور حالیہ واقعات کے باعث تناؤ کا شکار ہے۔ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بتایا کہ دوپہر ایک بج کر 14 منٹ پر قواعد و ضوابط کے ضابطہ 94 سی کے تحت اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس پیش کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منگل کی صبح گیارہ بجے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تھی۔ تاہم، ایوان میں ماحول شروع ہی سے کشیدہ رہا اور اپوزیشن جماعتوں نے واضح اشارے دیے کہ وہ ایوان کے نظم و نسق، حکومتی رویے اور حالیہ دنوں میں ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی جیسے معاملات پر سخت مؤقف اختیار کریں گی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر کا کردار غیر جانبدار نہیں رہا اور پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
دوسری جانب حکومت مرکزی بجٹ 2026-27 پر بحث کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم نظر آتی ہے۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بجٹ پر تفصیلی گفتگو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے اور سیاسی اختلافات کو آڑے نہیں آنا چاہیے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ تجارتی پالیسی، پارلیمانی آچرن اور جمہوری اقدار سے جڑے سوالات کو نظرانداز نہیں کریں گی، جس کے نتیجے میں ایوان میں تیز نوک جھونک اور ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے منگل کو اس تعطل کو ختم کرنے کی کوشش میں سینئر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں کانگریس کے کے سی وینوگوپال اور گورو گوگوئی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کے رکن ابھیشیک بنرجی اور بی آر ایس کے ٹی آر بالو شریک تھے۔ گفتگو کے دوران اپوزیشن نے کئی مطالبات پر زور دیا، جن میں ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت دینا، معطل ارکان کی بحالی اور خواتین ارکان کے خلاف کی گئی مبینہ قابل اعتراض باتوں کو واپس لینا شامل ہے۔