سعودی ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے شامی امور "ٹام باراک" نے "ریاض" کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی وزیر خارجہ "فیصل بن فرحان" سے ملاقات کی۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹام باراک کا حالیہ دورہِ ریاض، شام کی تازہ ترین صورت حال پر سفارتی مشاورت کے پیرائے میں عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد شام پر قابض رژیم کی انسانی و اقتصادی بنیادوں پر حمایت کرنا ہے۔ میڈیا نے بتایا کہ اس ملاقات میں شام کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ وہاں امن و استحکام کو دوام بخشنے کے لئے بین الاقوامی کوششوں میں ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ اقتدار کی منتقلی جیسے اس کٹھن مرحلے سے گزرنے کے لئے شام میں سیاسی عمل کی حمایت کرے اور لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں کردار ادا کرے۔
واضح رہے کہ ٹام باراک، امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی ہونے کے ساتھ ساتھ "ترکیہ" میں سفیر بھی ہیں۔ انہوں نے 2025ء میں اپنی تعیناتی کے بعد سے شام کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی کو آگے بڑھانے میں گہرا کردار ادا کیا۔ مذکورہ بالا ملاقات بھی اُسی امریکی پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت واشنگٹن، گزشتہ سال سے بعض عرب ممالک سے ابو محمد الجولانی کے لئے حمایت حاصل کر رہا ہے۔ بلکہ الشرق الاوسط اخبار نے تو یہاں تک لکھا کہ ٹام باراک کا حالیہ دورہ، شام کے حوالے سے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے انجام پایا۔ دوسری جانب اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے اپنے تجزیے میں اس ملاقات کو "ڈونلڈ ٹرمپ" کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا، جس کا مقصد مغربی ایشیاء میں عرب اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی شام میں ترکیہ کا کردار بھی اس گفتگو کا مرکز رہا۔