بجٹ اجلاس: انڈیا بلاک کی حکمت عملی طے، مغربی ایشیا کی جنگ اور تیل کے معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری
42
M.U.H
09/03/2026
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک نے اپنی پارلیمانی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں پیر کو نئی دہلی میں اپوزیشن رہنماؤں کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اٹھائے جانے والے اہم مسائل اور مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں راجیہ سبھا میں قائدِ حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے جے رام رمیش، کے سی وینوگوپال اور پرمود تیواری شریک ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار دھڑا) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے سنجے راؤت، سی پی آئی (ایم) کے جان بریٹس سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔
میٹنگ میں طے کیا گیا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مغربی ایشیا کی جاری کشیدگی، تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور ہندوستان کی توانائی سلامتی کے معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھائے گی۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ خطے کی بدلتی صورتحال کا براہ راست اثر ہندوستان کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کی سلامتی پر پڑ سکتا ہے، اس لیے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔
اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر بیان دینے والے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان کے بعد تفصیلی بحث کرانے اور حکومت سے مختلف سوالات کے جواب طلب کرنے کی تیاری کی ہے۔ کانگریس کے کئی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو ایسے اہم عالمی معاملے پر بحث کا موقع ملنا چاہیے تاکہ حکومت کی پالیسی اور موقف واضح ہو سکے۔
اسی سلسلے میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک کا نوٹس بھی دیا ہے۔ انہوں نے اس نوٹس میں کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث ہندوستان کو توانائی سلامتی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کی کشیدگی کا اثر نہ صرف تیل کی سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے بلکہ اس کے اقتصادی اور تزویراتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
اپوزیشن نے امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو روسی خام تیل خریدنے کے لیے دی گئی 30 دن کی اجازت کے معاملے کو بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے مختلف پہلو ہیں اور حکومت کو اس بارے میں واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ پیر سے شروع ہو چکا ہے اور یہ دو اپریل تک جاری رہے گا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے اہم قانون سازی اور مالی امور سمیت مرکزی بجٹ 2026-27 سے متعلق مختلف معاملات پر کارروائی متوقع ہے۔ یہ اجلاس 28 جنوری کو صدر کے مشترکہ خطاب کے ساتھ شروع ہوا تھا اور مجموعی طور پر 65 دن کے دوران تقریباً 30 نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں۔
پارلیمنٹ کے اس مرحلے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مغربی ایشیا کی صورتحال، توانائی سلامتی اور دیگر قومی و بین الاقوامی مسائل پر تیز بحث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔