لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک، اپوزیشن کے 118 ارکان کی حمایت
29
M.U.H
09/03/2026
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے۔ اس تحریک کی حمایت میں 118 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخط بتائے جا رہے ہیں، جس کے بعد ایوان میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
بیجو جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ سسمت پاترا نے پیر کے روز اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا موجودہ اجلاس نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اسی دوران لوک سبھا اسپیکر کے خلاف پیش کی گئی تحریک پر بھی بحث ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر ایوان میں سنجیدہ مکالمہ، غور و فکر اور مباحثہ ہوگا تاکہ جمہوری اقدار کو برقرار رکھا جا سکے۔
ادھر شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے سینئر رہنما اروِند ساونت نے کہا کہ اسپیکر کا منصب آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوم برلا کی ذاتی حیثیت کا احترام اپنی جگہ، لیکن اسپیکر کے طور پر ان کے بعض فیصلوں پر اپوزیشن کو سخت اعتراض ہے۔ ان کے مطابق عدم اعتماد کی یہ تحریک اسپیکر کے مبینہ طور پر اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف پیش کی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کو سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو اس وقت بولنے کی اجازت نہیں دی گئی جب وہ سابق فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نرونے کی غیر شائع شدہ یادداشتوں کا حوالہ دے رہے تھے۔
دوسری جانب حکومت نے اس تحریک کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی چال قرار دیا ہے۔ پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پیش کی گئی یہ تحریک بے بنیاد ہے اور اس کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایوان میں اس معاملے کا بھرپور جواب دے گی اور یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ محمد جاوید، کوڈیکنّل سریش اور ملو روی نے اسپیکر کے خلاف پیش کی گئی تحریک میں الزام لگایا ہے کہ اوم برلا نے ایوان کی کارروائی کے دوران جانبدارانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے ارکان کو عوامی مسائل اٹھانے پر پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا جاتا ہے، جبکہ حکمراں جماعت کے ارکان کی جانب سے سابق وزرائے اعظم کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔
اپوزیشن ارکان نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسپیکر متعدد متنازع معاملات میں کھلے طور پر حکمراں جماعت کے موقف کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو لوک سبھا کے غیر جانب دار کردار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے شروع ہوا ہے اور اسی دوران کانگریس کے تین ارکان اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر مبنی قرارداد پیش کرنے والے ہیں۔