وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ، توانائی سپلائی پر ہنگامی جائزہ، تیل، گیس اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت
22
M.U.H
22/03/2026
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اتوار کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں ملک میں توانائی کی فراہمی سے متعلق تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں پیٹرولیم، خام تیل، قدرتی گیس، بجلی اور کھاد کے شعبوں سے متعلق صورتحال پر غور کیا گیا اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا کہ ملک میں ضروری توانائی وسائل کی سپلائی بلا تعطل جاری رہے۔
اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے متعلقہ وزارتوں اور افسران سے پیٹرولیم مصنوعات، قدرتی گیس، بجلی پیدا کرنے کے وسائل اور کھاد کی دستیابی و ترسیل کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جائے اور کسی بھی ممکنہ بحران کے لیے پیشگی تیاری مکمل رکھی جائے۔ حکام کے مطابق، اجلاس میں اس بات کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی کہ ملک بھر میں توانائی کی ترسیل کا نظام مستحکم رہے اور کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں فوری متبادل انتظامات کیے جا سکیں۔
حکومت نے اس موقع پر خام تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہنگامی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں کسی بھی خلل کے امکانات پر غور کیا گیا، کیونکہ یہ راستہ بھارت کے لیے توانائی درآمدات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ وزارتوں کو ہدایت دی گئی کہ سپلائی چین کو مستحکم رکھا جائے اور ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے نظام میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی بندرگاہوں، ریفائنریوں اور دیگر اہم تنصیبات کی فعالیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو متبادل سپلائی ذرائع، ذخائر کے استعمال اور توانائی کے دیگر ذرائع کو بروئے کار لانے کے امکانات کیا ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہے اور عوام کو توانائی کی دستیابی کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ملکی مفادات کے تحفظ اور توانائی کی مسلسل فراہمی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔