حدبندی پر گھمسان: مودی کا ’تاریخی قدم‘ کا دعویٰ، اسٹالن کا کاپیاں جلا کر سیاہ پرچم کے ساتھ احتجاج
18
M.U.H
16/04/2026
نئی دہلی/چنئی: ملک میں حدبندی اور خواتین ریزرویشن کے معاملے نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے حدبندی کے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کی کاپیاں جلا دیں اور سیاہ پرچم لہرا کر مخالفت درج کرائی، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی عمل کو خواتین بااختیار بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ مجوزہ خواتین ریزرویشن (ناری شکتی وندن) قانون کا عملی نفاذ دراصل حدبندی کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ یعنی خواتین کے لیے نشستوں کی مخصوص تعداد طے کرنے کے لیے پہلے لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی نئی حدبندی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے مرکز کی جانب سے حدبندی اور آئینی ترمیمی بل ایک ساتھ آگے بڑھائے جا رہے ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر اختلاف پیدا ہوا ہے۔
چنئی میں اسٹالن نے ’تمل ناڈو لڑے گا، تمل ناڈو جیتے گا‘ کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ حدبندی کا مجوزہ طریقہ جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق اگر نشستوں کی تقسیم نئی مردم شماری یا آبادی کے تناسب پر کی گئی تو شمالی ریاستوں کو فائدہ ہوگا اور جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل کے ذریعے تمل ناڈو کی آواز کمزور کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں اور کاروباری مقامات پر سیاہ پرچم لگا کر احتجاج کریں اور سوال اٹھایا کہ کیا آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کی سزا جنوبی ریاستوں کو دی جا رہی ہے۔
ادھر نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے آغاز پر کہا کہ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کے لیے آئینی ترمیمی بل ایک تاریخی قدم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کی سیاسی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور اس کے لیے ضروری قانونی و آئینی عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
حکومت کے مجوزہ بلوں میں لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ، نمائندگی کے نئے فارمولے اور ’آبادی‘ کی تعریف طے کرنے جیسے نکات شامل ہیں، جو براہ راست حدبندی کے عمل کو متاثر کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اصل تنازعہ یہی ہے کہ جہاں مرکز اسے خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی اصلاح کے طور پر پیش کر رہا ہے، وہیں حزب اختلاف کو خدشہ ہے کہ حدبندی کے ذریعے علاقائی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ اسی لیے یہ معاملہ صرف خواتین ریزرویشن تک محدود نہیں رہا بلکہ وفاقی ڈھانچے اور ریاستی نمائندگی کی بحث میں تبدیل ہو گیا ہے۔