ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب انقلابی ہیں، ایرانی قیادت کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب
29
M.U.H
24/04/2026
اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کی جانب سے ایک سخت اور واضح پیغام میں قومی اتحاد پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی قسم کی داخلی تقسیم موجود نہیں اور پوری قوم ایک انقلابی سوچ کے تحت متحد ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے اندر کسی قسم کی نظریاتی تقسیم موجود نہیں اور پوری قوم ایک ایرانی اور انقلابی شناخت کے تحت متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم اور حکومت کے فولادی اتحاد اور رہبرِ انقلاب کی مکمل اطاعت کے ساتھ ایران ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا، جو بھی ایران کے خلاف اقدام کرے گا، اسے اپنے عمل پر پچھتانا پڑے گا۔ ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا راستہ ایک ہی ہے، ایک خدا، ایک قوم، ایک رہنما اور ایک منزل پر مشتمل ہے اور وہ منزل ایران کی فتح ہے، جو قوم کے لیے جان سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران میں کوئی انتہاء پسند یا اعتدال پسند نہیں بلکہ تمام شہری ایک قوم اور انقلابی شناخت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم اور حکومت کے مضبوط اتحاد اور رہبرِ انقلاب کی مکمل اطاعت کے ساتھ ایران ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کرے گا۔ باقر قالیباف کے مطابق ایران کا راستہ ایک ہی ہے، ایک خدا، ایک قوم، ایک رہنماء اور فتح کے راستے پر مبنی ہے اور یہی راستہ ملک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
دریں اثنا ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت اور کارروائیوں کے باوجود ایران کے ریاستی ادارے اتحاد، مقصد اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میدانِ جنگ اور سفارت کاری دونوں ایک ہی جنگ کے دو مربوط محاذ ہیں اور ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ عراقچی کے مطابق ایران کے عوام پہلے سے زیادہ متحد ہیں اور قومی اتحاد میں کسی قسم کی دراڑ نہیں پائی جاتی۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے اندر سخت گیر اور نام نہاد اعتدال پسندوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی حکومت بدحالی اور انتشار کا شکار ہے۔