پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے، آر ایس ایس رہنما دتاتریہ ہوسبالے کا بڑا بیان
7
M.U.H
14/05/2026
نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبالے نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اختلافات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہیے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط ہی تعطل ختم کرنے کی اصل کنجی ہیں۔ پی ٹی آئی ویڈیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ہوسبالے نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے بھارت کا اعتماد کھو دیا ہے، تاہم اس کے باوجود عوامی سطح پر رابطے جاری رہنے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی سلامتی اور خودداری کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت کے تمام راستے بند کر دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے ایک کھڑکی کھلی رکھنی چاہیے۔ عوامی رابطے ہی وہ امید ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کر سکتے ہیں کیونکہ ہماری تہذیبی اور ثقافتی جڑیں مشترک ہیں اور ہم ایک وقت میں ایک ہی قوم کا حصہ تھے۔”ہوسبالے نے کہا کہ بھارت نے سفارتی سطح پر کئی کوششیں کیں لیکن پاکستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے۔ انہوں نے ممبئی 26/11 حملہ، پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار بار “سوئی چبھونے” جیسی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے زور دیا کہ تجارت، ویزا اور عوامی روابط مکمل طور پر بند نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہے۔
آر ایس ایس رہنما نے کہا کہ ماہرین تعلیم، کھلاڑی، سائنسداں اور سماجی رہنما آگے آئیں کیونکہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت میں بھارت کے خلاف نفرت بڑھ چکی ہے، جبکہ عوامی سطح پر اب بھی روابط کی گنجائش موجود ہے۔ ہوسبالے کے اس بیان پر کانگریس نے طنزیہ ردعمل ظاہر کیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہوسبالے کے حالیہ امریکی دورے نے نہ صرف انہیں بلکہ پوری سنگھ تنظیم کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی بات کسی اپوزیشن لیڈر نے کہی ہوتی تو بی جے پی اور اس کے حامی ٹی وی چینلز کس طرح ردعمل دیتے۔ کانگریس لیڈر منیش تیواری نے بھی سوال کیا کہ پہلگام حملے اور موجودہ صورتحال کے درمیان آخر ایسا کیا بدل گیا کہ اب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کیا سنگھ پر کسی “سپر پاور” کا دباؤ ہے۔
ادھر آر ایس ایس ذرائع کے مطابق تنظیم گزشتہ کچھ عرصے سے مغربی دنیا میں اپنی شبیہ بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں دتاتریہ ہوسبالے نے حال ہی میں امریکہ اور برطانیہ کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے مختلف دانشوروں، ماہرین تعلیم اور بھارتی نژاد افراد سے ملاقاتیں کیں۔