ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا: ایرانی وزیر خارجہ کا برکس اجلاس سے خطاب
25
M.U.H
14/05/2026
نئی دہلی: ایران کے وزیر خارجہ نے سید عباس عراقچی نے بریکس ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی غنڈہ گردی کے مقابلے میں مزاحمت کرکے ثابت کریں یہ رویئے تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا گيا ہے۔
ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں جاری برکس کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ "اس اجلاس میں موجود تقریباً ہر ملک کے لیے، امریکی غنڈہ گردی کا مقابلہ میں مزاحمت کوئي نئي بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں شریک بہت سے ممالک اس نفرت انگیز دباؤ اور جبر کی مختلف شکلوں کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مل کر کام کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اس طرح کے طرز عمل کو تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا جانا چاہیے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے ملک کو ایک سال سے بھی کم عرصے میں امریکہ اور اسرائیل نے دو بار وحشیانہ اور غیر قانونی جنگوں کا نشانہ بنا ہے۔جھوٹے دعووں کے ذریعے ایرانی عوام پر حملوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کی گئي ہے۔ ایسے جھوٹے دعوے جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے باخبر جائزوں اور یہاں تک کہ امریکہ کی اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں رپورٹوں کے بھی منافی ہیں۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ اب یہ بات سب پر واضح ہونا چاہیے کہ ایران ناقابل تسخیر ہے اور جب بھی اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہوکر سامنے آتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنی آزادی اور وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں وہیں ہم سفارت کاری کو آگے بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بھی آمادہ ہیں اور احترام کا جواب احترام سے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے بارہا یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ایرانی قوم کبھی کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکی ہے اور نہ ہی آئندہ جھکے گی۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جس جنگ میں کھڑا ہے وہ برکس کے تمام اراکین کے دفاع اور اس نئی دنیا کےدفاع کی جنگ ہے جسے ہم تعیمر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران برکس ممالک اور بین الاقوامی برادری کے تمام ذمہ دار اراکین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں بشمول ایران کے خلاف ان کی غیر قانونی جارحیت کی کھل کر مذمت کریں۔ عالمی اداروں کو سیاسی بنانے کا سلسلہ رکوائیں اور جنگ کی آگ بھڑکانے والوں اور اقوام میں متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات عمل میں لائیں۔