کتائب حزب اللہ عراق کے سینئر رہنما کو گرفتار کر لیا ہے: امریکہ
8
M.U.H
16/05/2026
امریکیوں نے اس عراقی شہری پر ایرانی انقلابی گارڈز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے "ایجنٹ" کے طور پر کام کرنے اور "دہشتگردی کی حمایت" کا الزام لگایا ہے۔ امریکی وزارت انصاف نے باضابطہ طور پر محمد باقر سعد داؤد الساعدی کی گرفتاری کا اعلان کیا کہ جو ایک عراقی شہری اور کتائب حزب اللہ عراق کے سینئر رکن ہیں۔ امریکی وزارت کے مطابق، الساعدی پر کتائب حزب اللہ اور ایرانی اسلامی انقلابی گارڈز کے "ایجنٹ" کے طور پر کام کرنے سمیت دہشتگردی سے متعلق 6 جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے کہ جن میں مبینہ طور پر یورپ و امریکہ میں تقریباً 20 حملوں اور حملوں کی کوششوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی شامل ہے۔ امریکی بیان کے مطابق اس عراقی شہری کو امریکہ منتقل ہونے کے بعد مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اُسے زیر التوا مقدمے کی سماعت کے دوران حراست میں لینے کا حکم ملا۔
امریکی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف و تمجید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکیوں کو نقصان پہنچانے، یا امریکیوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھنے والے ہر فرد کو تلاش کرنے اور جوابدہ بنانے کا عہد کر رکھا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ محمد باقر سعد داؤد الساعدی، کہ جن پر امریکیوں کو قتل کرنے سمیت امریکی مفادات پر حملے کے لئے دوسروں کو ہدایات دینے اور اُکسانے کا الزام ہے، اب امریکی حراست میں ہیں.. نیز یہ کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ بین الاقوامی تعاون اور شراکتداروں کو سراہتا ہے کہ جنہوں نے یہ ممکن بنایا!