امریکی سرپرستی نامنظور، لبنان کی حکومت 1983 سے بدتر معاہدے سے باز رہے: حزب اللہ
6
M.U.H
16/05/2026
تہران: حزب اللہ نے لبنان اور صیہونی حکومت کے مذاکرات کو ملک کی آئين کی خلاف ورزی اور قومی سلامتی اور خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے۔
حزب اللہ نے ہفتے کے روز انتباہ دیا کہ بیروت صیہونی حکومت سے ایسا معاہدہ کرنے جا رہا ہے جو 1983 کے معاہدے سے بھی بدتر ہے۔
حزب اللہ کے بیان میں آیا ہے کہ 1983 میں ہونے والے معاہدے کے تحت بیروت سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بدلے لبنان اور غاصب صیہونی حکومت کے تعلقات برقرار ہونے تھے جسے لبنانی عوام نے سختی سے مسترد کردیا تھا اور اب لبنان کی حکومت نے تاریخ سے سبق نہ لیتے ہوئے صیہونی حکومت سے جامع اور وسیع امن کی بات کی ہے۔
حزب اللہ کے بیان میں آیا ہے کہ لبنان کی حکومت صیہونی دشمن کو اس کے جرائم سے بری کرنا اور بیروت کو امریکہ کی سرپرستی میں دینا چاہتی ہے۔
اس بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیروت کی جانب سے تل ابیب کو ایک امن پسند حکومت کے طور پر تسلیم کرنا لبنان کے دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حزب اللہ نے انتباہ دیا ہے کہ لبنان کی حکومت تل ابیب کو مفت کی رعایت دینے، لبنانی عوام کے مسلمہ حقوق کو نظرانداز کرنے اور غاصب دشمن کے ساتھ امن کے وہم سے باز رہے۔