مولانا کلب جواد نقوی کے ساتھ علماء بڑے امام باڑے اور ٹرسٹ کی املاک کا جائزہ لینے پہنچے
10
M.U.H
03/06/2026
لکھنؤ3جون:عبادت گاہوں کی بے حرمتی، تقدس کی پامالی اور امام باڑوں میں فحش حرکات کے خلاف آج علمائے کرام مولانا کلب جواد نقوی کے ساتھ بڑے امام باڑے کا جائزہ لینے پہنچے ۔ اس موقع پر مولانا کلب جواد نقوی کہا کہ ضلع مجسٹریٹ نے ہماری عبادت گاہوں کے تقدس کے لئے وعدے کے مطابق اب تک کوئی اقدام نہیں کیا ۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ امام باڑے میں داخلے کے لئے مذہبی عمارتوں کے تقدس کا خیال رکھا جائے گا مگر ہم یہاں دیکھ رہے ہیں کہ تقدس پامال ہورہاہے ۔ مولانا نے کہا کہ بڑے امام باڑے میں سیاح مذہبی عمارتوں کے تقدس کو پامال کرتے نظر آئے اور وہاں کوئی ضابطہ نافذ نہیں تھا ۔ ہر طرف امام باڑے میں بدتر صورت حال تھی ۔حتی کہ مذہبی عمارتوں کے رکھ رکھاؤ میں بھی بدنظمی اور لاپرواہی ہے ۔ مولانا نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ سے مذہبی عمارتوں کے تقدس کے تحفظ کے لئے ہم نے جو مطالبات کیے تھے انکو پورا ہونا چاہیے کیونکہ ہم اپنی عبادت گاہوں کی بے حرمتی برداشت نہیں کریں گے ۔ انھوں کہا کہ اگر ہماری مذہبی عمارتوں کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت جلد اس بارے میں ہم بڑے اور اہم فیصلے لیں گے۔
مولانا سیف عباس نقوی نے کہا کہ عبادت گاہوں کے تقدس کا خیال ضروری ہے ،لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ پارکنگ کا کام تو رک گیا ہے مگر جو پتھر سڑک کے توڑے گئے تھے انکی مرمت ابھی تک نہیں ہوئی ۔ مولانا نے کہا کہ عید غدیر اسلام کی سب سے بڑی عید ہے ،لیکن عید غدیر پر بھی ہماری مذہبی عمارتوں میں رونق نہیں ہوتی ،لہٰذا عید غدیر کے موقع پر ٹرسٹ کے زیر انتظام تمام عمارتوں میں چراغاں ہونا چاہیے تاکہ رونق رہے ۔ علماء نے سب سے پہلے امام باڑے کے اندر فاتحہ خوانی کی ،اس کے بعد امام باڑے کا جائزہ لیا ۔
اس کے بعد علماء گھنٹہ گھر اور اطراف کا جائزہ لینے پہنچے۔ وہاں دوکانداروں نے مولانا کلب جواد نقوی کو اپنے مطالبات میمورنڈم کی صورت میں دئیے ۔ دوکانداروں کا کہنا ہے کہ غریبوں کی دکانیں اُجاڑ دی گئیں مگر امیروں کے ریسٹورینٹ موجود ہیں ۔ مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ غریب دوکانداروں کے خلاف کی گئی کاروائی قابل مذمت ہے ۔ اگر یہاں غریبوں کی دکانیں نہیں ہوسکتیں تو امیروں کے ریسٹورینٹ بھی بند ہونے چاہئیں ۔ مولانا نے کہا کہ ٹنڈے کبابی کا ریسٹورینٹ کھلا ہے ۔ بڑے امام باڑے کے نوبت خانے کو غریبوں سے خالی کراکے اے ایس آئی کو دیدیا گیا ،یہ غریبوں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
مولانا سیف عباس نے بھی غریب دوکانداروں کی دکانیں اُجاڑنے کی مذمت کی اور کہا کہ جب یہاں ٹنڈے کبابی کا ریسٹورینٹ چل سکتا ہے تو غریبوں کی دکانیں کیوں نہیں چل سکتیں ؟.
اس موقع پر مولانا کلب جواد نقوی کے ساتھ مولانا سیف عباس نقوی ،مولانا فرید الحسن ،مولانا مصطفیٰ علی خاں ،مولانا محمد مشرقین ،مولانا رضا عباس ،مولانا شوکت عباس ،مولانا سہیل عباس ،مولانا تفسیر حسین، مولانا محمد شفیق ،مولانا افضل حیدر اور دیگر افراد موجود تھے ۔