محرم سے قبل رہبر شہید کی تشیع متوقع؛ تین شہروں میں انتظامات مکمل
11
M.U.H
03/06/2026
تہران کے ڈپٹی میئر نے اعلان کیا ہے کہ رہبر شہید کی تشییع جنازہ کی تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی جبکہ دارالحکومت میں 15 سے 20 ملین افراد کی شرکت کی تیاری کی جا رہی ہے۔
تہران میونسپلٹی کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے منگل کے روز ایران کے بڑے شہروں کی ثقافتی و سماجی کمیٹی کے 52 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید کی تشییع جنازہ تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہونا حتمی ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہبر شہید کی تدفین ان کی وصیت اور قریبی افراد کی سفارشات کے مطابق حرم امام رضا میں کی جائے گی اور وہیں انہیں سپرد خاک کیا جائے گا۔
توکلی زادہ کے مطابق مختلف ایرانی صوبوں کی جانب سے تشییع جنازہ کی میزبانی کی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں، جبکہ امکان ہے کہ یہ تقریبات ذی الحجہ کے اختتام اور محرم الحرام کے آغاز میں منعقد ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں 15 سے 20 ملین سے زائد افراد کی شرکت کے پیش نظر وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول رہبر شہید کی آخری رسومات کے لیے تین روزہ پروگرام ترتیب دیا گیا ہے اور صرف تہران میں تشییع جنازہ کی تقریب کم از کم 24 گھنٹے جاری رہے گی۔
ڈپٹی میئر نے مزید کہا کہ مشہد کی تقریب بھی غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہوگی کیونکہ مشرقی ایران میں پڑوسی ممالک سے آنے والے زائرین اور سوگواروں کی بڑی تعداد متوقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے آنے والے افراد کی میزبانی غالبا مشہد میں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ رہبر شہید کی تشییع ایک منفرد اور تاریخی تقریب ہوگی کیونکہ ایک عالمی استکبار مخالف رہنما، امریکہ اور اسرائیل مخالف مجاہدت کے بہادر کمانڈر، ایک عظیم دینی مرجع اور اسلامی انقلاب کے رہنما کو سپرد خاک کیا جا رہا ہے۔
توکلی زادہ نے کہا کہ اس موقع پر تاریخ کا سب سے بڑا شیعہ اجتماع اور ممکنہ طور پر وسیع ترین مسلم اجتماع دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف ممالک اور تحریکوں کی جانب سے شرکت کے لیے مسلسل درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فائق زیدان نے اطلاع دی ہے کہ رہبر شہید کی شہادت کے بعد ابتدائی 40 دنوں کے دوران عراق میں کسی شیعہ شادی کا اندراج نہیں ہوا، جبکہ عراق کے مختلف شہروں میں علامتی تعزیتی اور تشییعی تقریبات بھی منعقد کی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رہبر شہید کی تشییع کے حوالے سے جو فضا بن رہی ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اور اسی نوعیت کے جذبات کشمیر، پاکستان، بھارت، افغانستان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔