یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں فیس کی ادائیگی قبول کر لی، بلومبرگ
9
M.U.H
02/07/2026
امریکی میڈیا نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ کئی بڑے یورپی ممالک اور بعض عرب رہنماؤں نے آبنائے ہرمز سے متعلق نئی حقیقتوں کو قبول کر لیا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، بلومبرگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ بعض نمایاں یورپی طاقتوں نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایران اور عمان کو ایک مخصوص رقم ادا کرنا ہوگی۔ اس معاملے پر ہونے والے خفیہ مذاکرات سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد کسی نہ کسی قسم کی سروس فیس کا نفاذ تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، خلیج فارس کے بعض عرب حکام بھی نجی سطح پر اسی مؤقف سے اتفاق رکھتے ہیں، اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ یہ ان کی حکومتوں کا سرکاری مؤقف ہو۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ کس نوعیت کی فیس ہوگی اور ہر ملک کس مقدار کو قبول کرے گا۔ دوسری جانب، امریکہ اور خلیج فارس کے عرب ممالک اب بھی اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں کر سکتے۔ ذرائع نے بتایا کہ یورپی ممالک اضافی اخراجات کے اصول کو قبول کرنے کے باوجود ایرانی اور عمانی حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مختلف ممالک کے جہازوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔
بلومبرگ نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ عمان نے یورپی حکام کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنگ سے پہلے والی صورتحال کی طرف واپسی ممکن نہیں رہی۔ عمان کے مطابق، اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے آلودگی کی صفائی، بحری رہنمائی (نیویگیشن) اور متعلقہ خدمات کے لیے فیس وصول کی جا سکتی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق، عمان اس مقصد کے لیے ایشیا کی آبنائے ملاکا کے نظام کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ ایسا ماڈل اختیار کیا جا سکے جو ایران اور دیگر ممالک، دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔ اس ذریعے نے مزید کہا کہ عمانی قیادت کا خیال ہے کہ ملاکا جیسا نظام اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب خلیج فارس کے تمام ممالک اسے قبول کریں۔
آبنائے ملاکا کا انتظام انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور مشترکہ طور پر کرتے ہیں، اور یہ ممالک نیویگیشن اور سیکیورٹی سے متعلق خدمات کے عوض جہازوں سے فیس وصول کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک فنڈ بھی موجود ہے جس میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے رضاکارانہ مالی تعاون جمع کیا جاتا ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات باقاعدگی سے شائع نہیں کی جاتیں۔ سنگاپور نے 2017 میں اعلان کیا تھا کہ دس سال کے دوران اس فنڈ میں 22 ملین ڈالر جمع ہوئے، یعنی اوسطاً سالانہ تقریباً 2.2 ملین ڈالر۔ یہ رقم آبنائے ہرمز کے لیے زیر غور مجوزہ اخراجات سے کہیں کم ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً دو ہفتے قبل ایک عارضی امن معاہدہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد اس آبی گزرگاہ کو حملہ آور ممالک اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند کر دیا تھا، جبکہ امریکہ نے بھی ایرانی جہازوں کی اپنی بندرگاہوں تک رسائی محدود کر دی تھی۔ اس صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور سپلائی میں کمی واقع ہوئی۔ بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے حاکمیتی حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس گزرگاہ سے آمدورفت کے لیے باہمی ہم آہنگی اور مقررہ فیس کی ادائیگی ضروری ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، خلیج فارس کے وہ ممالک جو جنگ کے ابتدائی مراحل میں شدید حملوں کا نشانہ بنے تھے، اب کشیدگی کم کرنے کی غرض سے ٹول یا فیس کی ادائیگی کی مخالفت میں نرمی دکھانے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔