رہبر انقلاب مذاکرات سے منع کرتے تو ہم ہرگز مذاکرات نہ کرتے: صدر پزشکیان
9
M.U.H
02/07/2026
ایرانی صدر نے کہا کہ مذاکرات کا فیصلہ قومی سلامتی کونسل کی اکثریتی منظوری اور رہبر انقلاب کی ہدایات کے مطابق کیا گیا، اور اگر مذاکرات نہ کرنے کا حکم دیا جاتا تو حکومت مکمل اطاعت کرتی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے رہبر انقلاب کی پالیسیوں اور نظام کے طے شدہ اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں، اور اگر رہبر انقلاب مذاکرات نہ کرنے کی ہدایت دیتے تو نہ کوئی اجلاس منعقد ہوتا اور نہ ہی کوئی مذاکرات کیے جاتے۔
تفصیلات کے مطابق صدر پزشکیان نے اسلامی تبلیغات کی رابطہ کونسل کی تقریبات یادگار کے منتظمین سے ملاقات کے دوران حالیہ شہداء، بارہ روزہ معرکے اور دیگر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ حالیہ مشکل حالات میں ایرانی قوم نے ثابت کیا کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ عوام ہیں، اور اگر عوام کی حمایت، یکجہتی اور استقامت نہ ہوتی تو دشمن اپنی سازشوں پر عمل درآمد سے باز نہ آتا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ دشمن نے ایران کی داخلی صورتحال کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ اعلیٰ فوجی کمانڈروں، سینئر حکام اور رہبر انقلاب کو نشانہ بنانے کے بعد ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا ہوگی، تاہم ایرانی عوام کے اتحاد نے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ تمام اقدامات نظام کی منظور شدہ پالیسیوں اور ملک کی کلان حکمتِ عملی کے دائرے میں انجام دیے گئے ہیں اور آج بھی اسی راستے پر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ پیش رفت جاری ہے۔
صدر نے واضح کیا کہ مذاکرات کے بارے میں رہبر انقلاب نے فرمایا تھا کہ اگر قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے تین چوتھائی ارکان اس کی حمایت کریں تو اسی پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ 13 رکنی کونسل کے اجلاس میں 12 ارکان نے نہ صرف مذاکرات کی حمایت کی بلکہ تفصیلی بحث کے بعد اس کی بھرپور تائید بھی کی۔
صدر پزشکیان نے حکومت پر رہبر انقلاب کی ہدایات کی خلاف ورزی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر رہبرِ انقلاب حکم دیتے کہ کوئی اجلاس یا مذاکرات نہ ہوں تو حکومت ہرگز ایسا نہ کرتی اور مکمل طور پر اس ہدایت پر عمل کیا جاتا۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش پیچیدہ حالات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نظام کے تمام اداروں کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی تعاون ناگزیر ہے، کیونکہ حالیہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ قومی یکجہتی ہی ایران کی سب سے بڑی طاقت ہے۔