’طلبا کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک ہو رہا‘، سونیا گاندھی نے مودی حکومت کی پالیسیوں پر اٹھائے سوال
12
M.U.H
24/07/2026
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طلبا صرف جوابدہی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کے مطالبات پورے کرنے کی جگہ ایسا سلوک کر رہے ہیں جیسے یہ طلبا ملک کے دشمن ہیں۔ کانگریس لیڈر نے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ طلبا کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہ بیان کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون بعنوان (ترجمہ) ’تعلیمی نظام کا زوال، نوجوان ہندوستان کی اذیت‘ میں دیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ملک کے طلبا تعلیمی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے ان کی جرأت کا جواب ’بزدلی اور بلاوجہ کی بربریت‘ سے دیا ہے۔
سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت طلبا کو ملک کا مستقبل سمجھنے کے بجائے ان کے ساتھ ملک کے دشمنوں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ ان کے مطابق طلبا نے حکومت کے تعلیمی نظام سے متعلق دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ وہ اپنے مضمون میں یہ بھی لکھتی ہیں کہ آج کا تعلیمی نظام نوجوانوں کو امید نہیں بلکہ مایوسی دے رہا ہے۔ طلبا کی تحریک 2 وجوہات کا نتیجہ ہے۔ پہلی… ایسا تعلیمی نظام جس نے نوجوانوں کا اعتماد توڑ دیا ہے، اور دوسری… مودی حکومت کا تکبر، جو جوابدہی طے کرنے اور اصلاحی اقدامات کرنے سے مسلسل انکار کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت طلبا کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہر سیاسی پارٹیوں اور معاشرے کی اخلاقی، سیاسی اور آئینی ذمہ داری ہے۔
سونیا گاندھی نے طلبا مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ کے دائرۂ اختیار میں کام کرنے والی پولیس نے طلبا کے ساتھ بربریت کی ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے 2020 کے سی اے اے-این آر سی مخالف احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران بھی یونیورسٹی کیمپسوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کارروائی کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین پہلوانوں کی تحریک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی ملک نہیں بھولا ہے۔
سونیا گاندھی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کا تعلیمی نظام مسلسل کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک، شفافیت کی کمی اور طلبا میں بڑھتی ہوئی مایوسی جیسے مسائل شدید تشویش کا موضوع ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو طلبا کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعلیمی نظام میں بروقت اصلاحات نہیں کی گئیں تو اس کا اثر صرف طلبا پر نہیں بلکہ ملک کے مستقبل پر بھی پڑے گا۔