اسرائیل نے 1700 فلسطینیوں کی لاشوں کو سودے بازی کے لیے بطور ہتھیار روک رکھا ہے
5
M.U.H
11/08/2026
اگرچہ اس وقت کوئی صہیونی قیدی موجود نہیں ہے، تاہم قابض حکومت نے کسی بھی ممکنہ آئندہ مذاکرات میں سودے بازی کے لیے 1700 فلسطینیوں کی لاشیں روک رکھی ہیں۔ فارس نیوز کے مطابق، ہاآرتص اخبار نے پیر کے روز ایک رپورٹ میں لکھا کہ صہیونی حکومت کی داخلی سلامتی کی تنظیم شاباک کے سربراہ ڈیوڈ زینی ان لاشوں کو روکے رکھنے کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مستقبل میں اسرائیلی قیدی یا لاپتا افراد موجود ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج بھی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے۔
ہاآرتص کے مطابق، ان لاشوں کی تقریباً تمام تعداد ان فلسطینیوں کی ہے جنہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے یا اس کے بعد ہونے والی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ تاہم ان میں بعض ایسے فلسطینیوں کی لاشیں بھی شامل ہیں جنہوں نے نہ جنگ میں اور نہ ہی کسی دوسری کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ 13 لاشیں صہیونی شہریوں کی ہیں جنہیں سکیورٹی ادارہ ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل کی سیاسی و سکیورٹی کابینہ اس معاملے کے ابتدائی جائزے کے لیے اجلاس نہیں کرتی، حکام کو ان فلسطینیوں کی لاشیں روکنے کا اختیار نہیں ہے جنہوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔
ہاآرتص کے مطابق، اس معاملے نے قانونی شعبے اور اعلیٰ سکیورٹی حکام، جن میں خود زینی اور شاباک کے قانونی مشیر بھی شامل ہیں، کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ شاباک کے قانونی مشیر نے لاشوں کو روکے رکھنے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں کہا ہے کہ حکام کو کسی ایسے شخص کی لاش اپنے قبضے میں نہیں رکھنی چاہیے جس کے بارے میں واضح ہو جائے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس اخبار نے گزشتہ فروری میں رپورٹ کیا تھا کہ ان فلسطینیوں کی لاشوں کی تعداد 766 ہے جن کی شناخت معلوم ہو چکی ہے، جبکہ مزید 10 لاشیں غیر ملکی شہریوں کی ہیں۔ تاہم اخبار نے زور دیا تھا کہ لاشوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور یروشلم اور مغربی کنارے کے رہائشیوں سے متعلق لاشوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔
صہیونی حکومت کی کابینہ نے حال ہی میں کئی عدالتی مقدمات میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ان فلسطینیوں کی لاشیں اپنے پاس رکھتی ہے جنہیں گرفتار کیا گیا تھا اور جو حراست کے دوران ہلاک ہوئے۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت داخلہ نے ان کی موت کے حالات کی تحقیقات کی ہیں۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل کے دفتر نے گزشتہ اپریل میں اس معاملے پر سکیورٹی اداروں کے درمیان مشاورت شروع کی تھی تاکہ اسے کابینہ کے سامنے پیش کرنے اور اس بارے میں فیصلہ کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم گزشتہ ماہ تک یہ عمل مکمل نہیں ہوا تھا۔
اسرائیلی فوج نے بھی سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا کہ وہ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے خصوصی کوششیں کر رہی ہے تاکہ بعض لاشوں کی واپسی ممکن ہو سکے، جن میں ان فلسطینیوں کی لاشیں بھی شامل ہیں جن کی موت کی وجہ کے بارے میں اسرائیلی وزارت داخلہ ابھی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس نوعیت کی درجنوں تحقیقات شروع کی گئی ہیں، تاہم اب تک کسی کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔