جولانی حکومت کی عدالت نے بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی
5
M.U.H
11/08/2026
دمشق کی فوجداری عدالت نے آج شام کی سابق حکومت کے تین عہدیداروں، بشار الاسد، ماہر الاسد اور عاطف نجیب، کو سزائے موت سنا دی۔ فارس نیوز کے مطابق، دمشق کی چوتھی فوجداری عدالت نے آج منگل کے روز مقدمے کی حتمی سماعت کے دوران درعا صوبے میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ اور بشار الاسد کے ماموں زاد بھائی عاطف نجیب کو جان بوجھ کر قتل، تشدد اور متعدد زیر حراست افراد کی ہلاکت میں ذمہ داری کے الزامات میں سزائے موت سنائی۔
شامی سرکاری ذرائع اور عرب میڈیا کے مطابق، جج فخرالدین العریان نے فیصلہ سناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عاطف نجیب نے درعا صوبے کے سیاسی سلامتی کے ادارے میں اپنی ذمہ داری کے دوران زیر حراست افراد پر بڑے پیمانے پر تشدد میں حصہ لیا اور ان میں سے متعدد کی ہلاکت کی براہ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے اعلان کیا کہ اس کے خلاف شامی قوانین میں مقرر کردہ سخت ترین سزا نافذ کی گئی ہے۔ عاطف نجیب کو جنوری 2025 میں جولانی حکومت کی سکیورٹی فورسز نے لاذقیہ میں گرفتار کیا تھا اور وہ اس عدالت میں زیر حراست موجود تھا۔ فیصلے کے ایک اور حصے میں دمشق کی فوجداری عدالت نے بشار الاسد کے خلاف غیابی فیصلہ سناتے ہوئے اسے جان بوجھ کر قتل، تشدد، من مانے حراست اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا مجرم قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے ان جرائم کے ارتکاب کے لیے ریاستی اداروں کو استعمال کیا۔
بشار الاسد کے چھوٹے بھائی ماہر الاسد کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔ یہ احکام اس مقدمے کے تحت جاری کیے گئے ہیں جو 26 اپریل 2026 کو دمشق کی چوتھی فوجداری عدالت میں شروع ہوا تھا، جو عبوری انصاف کے معاملات کے لیے مختص ہے۔ عاطف نجیب، جو جنوری 2025 سے زیر حراست ہے، سماعتوں میں ذاتی طور پر شریک ہوتا رہا، جبکہ بشار اور ماہر الاسد اور کئی دیگر عہدیداروں کو مفرور ملزمان کی حیثیت سے غیابی طور پر مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل 10 مئی کی سماعت میں عدالت نے ان افراد کو شہری حقوق سے محروم کر دیا تھا اور ان کے اثاثے حکومتی انتظام میں دے دیے تھے۔
شام کی پبلک پراسیکیوشن نے گزشتہ سماعت میں نجیب اور مفرور ملزمان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ مقدمہ بنیادی طور پر 2011 میں درعا میں احتجاجی تحریک کے آغاز کے واقعات سے متعلق ہے، اس وقت عاطف نجیب سیاسی سلامتی کے شعبے کے سربراہ تھے اور خاص طور پر اس شہر کے متعدد بچوں کی مبینہ گرفتاری اور تشدد کے معاملے میں ان کا نام سامنے آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعہ شام میں ابتدائی احتجاجی تحریک کے آغاز کے اہم عوامل میں سے ایک تھا۔ آج کا فیصلہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والے اولین اہم عدالتی فیصلوں میں شمار ہوتا ہے۔
عدالتی کارروائی پر تنقید
اسی دوران بعض شامی قانونی ماہرین کی جانب سے عدالتی کارروائی پر تنقید بھی سامنے آئی ہے، جن میں زیادہ تر عدالت کے تکنیکی اور قانونی طریقہ کار سے متعلق اعتراضات شامل ہیں۔
شامی نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس، وکیل اور شامی انسانی حقوق کے کارکن مشیل شماس، ہیومن رائٹس واچ کی سینئر محقق ہیبہ زیادین اور بعض دیگر شامی وکلا نے عدالتی کارروائی کے حوالے سے مختلف مسائل اٹھائے ہیں۔
اہم ترین اعتراضات
شامی قانونی ماہرین کے مطابق، ملک کے تعزیری قانون میں انسانیت کے خلاف جرم یا جنگی جرم کی واضح تعریف موجود نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے جرائم کی قانونی نوعیت متعین کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین پر انحصار کیا ہے، جو مستقبل میں قانونی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ درعا کے واقعات 2011 کے اوائل سے متعلق ہیں۔ اس وقت شام میں خانہ جنگی باضابطہ طور پر شروع نہیں ہوئی تھی۔ بعض قانون دانوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات کو جنگی جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بشار اور ماہر الاسد کے غیابی مقدمے کے حوالے سے بھی ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ آیا انہیں مقدمے کی کارروائی کے بارے میں مناسب طریقے سے مطلع کیا گیا تھا اور آیا ان کے حقوق کے دفاع کے لیے مناسب وکیل مقرر کیا گیا تھا یا نہیں۔