امریکی صدر ٹرمپ سے صہیونیت مخالف یہودی ربیوں کی ملاقات، غزہ جنگ ختم کرانے کا مطالبہ
9
M.U.H
06/09/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے صہیونیت مخالف حسیدی یہودی ربیوں کے ایک گروپ نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور ان سے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ ختم کرانے کا مطالبہ کیا۔ برطانوی میڈیا مڈل ایسٹ آئی کے مطابق نیویارک اور نیو جرسی سے آنے والے وفد میں ستمار برادری کے سرکردہ ربی آرون ٹیٹل بام بھی شامل تھے، جو تقریباً 1 لاکھ افراد کی برادری کی قیادت کرتے ہیں جبکہ ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر بھی ملاقات میں موجود تھے۔ وفد نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس اور ریپبلکن رکن کانگریس مائیک لالر سے بھی ملاقات کی۔ عرب میڈیا کے مطابق یہودی ربیوں نے صدر ٹرمپ کو ایک خط دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ صہیونی اور اسرائیلی رہنماء دنیا بھر کے یہودیوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ملاقات کے دوران اسرائیل کی جانب سے یہودی طلبہ کو زبردستی فوج میں بھرتی کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جو اسرائیل میں انتہائی متنازع ہے اور اس کے خلاف بڑے احتجاج بھی ہوچکے ہیں۔
خط میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہماری برادری کے افراد کو صہیونی نمائندوں کے بجائے یہودی امریکی شہری سمجھا جائے۔ یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ایسے یہودی مذہبی رہنماؤں کے ساتھ غیر معمولی رابطے کی حیثیت رکھتی ہے، جن کے صہیونیت سے متعلق خیالات کئی بڑی اسرائیل نواز یہودی تنظیموں سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات امریکی اور اسرائیلی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہوئی ہے، اس لیے ملاقات کے سیاسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق مذہبی امور کے دفتر کی جانب سے مختلف مذہبی برادریوں کے رہنماؤں کو صدر سے ملاقات کے لیے بلایا جاتا ہے۔