ستیہ نکیتن حادثہ: ’حکومت جوابدہی سے نہیں بچ سکتی‘، دہلی ہائی کورٹ کا ڈی یو سمیت 6 کو نوٹس
21
M.U.H
07/09/2026
جنوب مغرب دہلی کے ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ میں پیر کو مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس حادثہ پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی، ایم سی ڈی، قومی انسانی حقوق کمیشن، دہلی حکومت، مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عرضی گزار کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ ہلی میں ہر چند ماہ کے وقفہ پر ایسے واقعات پیش آتے ہیں، جہاں بے قصور لوگ اپنی جان گنو دیتے ہیں۔ کبھی آگ لگتی ہے، کبھی پانی بھر جاتا ہے تو کبھی عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔ اس معاملے میں دہلی میونسپل کارپوریشن یعنی ایم سی ڈی کو کچھ ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کیا اور کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ ان سرکاری انتظامی افسران کو زیادہ سنجیدہ اور مؤثر طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔
عدالت نے کہا کہ جو عمارت منہدم ہوئی ہے ان میں پاس ہی میں واقع دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) سے وابستہ کالجوں میں پڑھنے والے طلبہ رہتے تھے۔ یہ عام معلومات ہے کہ ڈی یو باہر سے آنے والے اپنے طلبہ کو مناسب ہاسٹل کی سہولیات فراہم نہیں کرتی، جس کی وجہ سے طلبہ پی جی میں رہنے کے لیے مجبور ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی۔ 50 نوجوان طلبہ کی زندگی خطرے میں ہے۔ ان میں سے زیادہ تر شاید اب بھی ملبے کے نیچے پڑے ہوں گے، اس سے زیادہ تکلیف کی بات اور کچھ نہیں ہو سکتی۔
عدالت نے حکومت کو ستیہ نکیتن عمارت حادثہ میں پھنسے طلبہ کو بچانے کی کوششیں دوگنی کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ حادثے کی ذمہ داری صرف پی جی مالک کی نہیں ہو سکتی۔ ایم سی ڈی اور دیگر متعلقہ اتھارٹیز کی بھی ذمہ داری ہے کہ دہلی میں ہونے والی ہر تعمیر عمارت کے ضوابط اور نافذ قوانین کے مطابق ہو۔ عدالت نے کہا کہ اگر افسران اپنی قانونی ذمہ داریوں کے تئیں بیدار ہوتے تو ممکن ہے کہ ایسے واقعے کو روکا جا سکتا تھا۔ ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی کہ وہ تحقیقات کرے کہ منہدم ہونے والی عمارت قانونی اجازت اور عمارتی ضوابط کے تحت تعمیر کی گئی تھی یا نہیں۔ ساتھ ہی ذمہ دار افسران کی شناخت کر کے ان کے خلاف مجوزہ کارروائی کی معلومات دینے کو کہا گیا ہے۔ ایم سی ڈی کو ایک ہفتے کے اندر اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والے تمام پی جی ہاسٹلوں کا معائنہ کر کے یہ بتانے کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ منظور شدہ اجازت اور عمارت کے ضمنی قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں اور ان میں کتنے طلبہ رہ رہے ہیں۔
عدالت نے دہلی یونیورسٹی سے پوچھا ہے کہ اس کے کالجوں میں بیرونی ریاستوں سے آئے کتنے طلبہ زیر تعلیم ہیں اور یونیورسٹی یا حکومت کی جانب سے کتنے ہاسٹل چلائے جا رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی میں ہاسٹلوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جبکہ ملک بھر سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی آتے ہیں اور انہیں مجبوری میں پی جی میں رہنا پڑتا ہے۔ عدالت نے پی جی ہاسٹلوں کے لیے واضح قواعد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی حفاظت سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے حکومت سے طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولیات بڑھانے اور اس سمت میں کوششیں تیز کرنے کو کہا۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ طلبہ کے لیے ہاسٹل میں سرمایہ کاری کرنا دراصل طلبہ کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔
سماعت کے دوران مرکز، ایم سی ڈی اور دہلی پولیس کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہلی حکومت، مرکزی حکومت اور ایم سی ڈی کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں۔ ایس جی تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اس معاملے کی فعال طور پر نگرانی کر رہی ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کے مفاد میں فیصلہ لینے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ وہ کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ عدالت نے تمام متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 دن کے اندر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 25 ستمبر کو ہوگی۔