ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست پر انکار کر دیا
9
M.U.H
11/09/2026
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں سےلاحق خطرے پر سعودی ولی عہد نے گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ سے دو بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کریں تاہم امریکی صدر نے حوثیوں کے خلاف کارروائی سے انکار کر دیا۔ ایکسیوس کے مطابق امریکی عسکری اور سول حکام نے حالیہ ہفتوں میں سعودی ہم منصبوں سے رابطہ کیا جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر ہنگامی رابطہ اجلاسوں کے لیے گزشتہ روز سعودی عرب گئے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے اور وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
دیگر ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ فی الحال واشنگٹن کا حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اکسیوس کو بتایا کہ امریکا اپنی بنیادی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ امریکی عہدیدار کے مطابق علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے اور انہیں حل کرنے میں اپنے علاقائی شراکت داروں کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب کو انٹیلی جنس معلومات اور اہداف سے متعلق ڈیٹا فراہم کرے گا۔