مکہ کے اصل محافظ ہم ہیں، یمنی عوام عظیم الشان مظاہروں میں عزم کا اظہار
3
M.U.H
18/09/2026
جمعہ کے روز یمن کے شہروں میں مظاہروں میں شریک یمنی شہریوں نے مکہ کو نشانہ بنانے سے متعلق سعودی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے محاصرے کے مقابلے میں مزاحمت جاری رکھنے پر زور دیا۔ یمن میں مسلح افواج کی حمایت، محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ اور مکہ کو نشانہ بنانے کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنے کے عنوان سے ایک بڑے عوامی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس کے شرکا نے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہم آج اسلام کے دفاع اور اس بڑے بہتان اور دورِ حاضر کے اس جھوٹ کو مسترد کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، جو سعودی دشمن نے ہماری قوم کے خلاف پھیلایا ہے۔
یمنی شہریوں نے کہا کہ ہم اپنی قوم کے خلاف عائد کیے گئے اس بہتان اور ان لوگوں کے خلاف اپنا موقف واضح کرنے کے لیے سڑکوں پر آئے ہیں، جنہوں نے سعودی دشمن کی جانب سے مکہ مکرمہ کی حرمت کے بارے میں عائد کیے گئے اس توہین آمیز بہتان اور جھوٹ کو قبول کیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ امتِ مسلمہ کے مسائل کے حوالے سے یمن کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ان میں سرفہرست اسلامی مقدسات، بالخصوص مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ کا دفاع ہے، ہم اللہ کی راہ میں جہاد، اس کے دشمنوں سے دشمنی اور اس کے اولیاء سے محبت کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنی آزادی و خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
یمنی شہریوں نے مزید کہا کہ ہم سعودی دشمن کے خلاف اپنی جدوجہد اور محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ، کشیدگی کے مقابلے میں کشیدگی اور سعودی عرب کے اجرتی کارندوں کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی کے تحت اپنی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھیں گے۔ مظاہرین نے اعلامیے کے ایک اور حصے میں کہا کہ ہم مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے سے متعلق اپنی قوم کے خلاف عائد کیے گئے اس خطرناک الزام، بڑے جھوٹ اور عظیم بہتان کی مذمت اور اسے مسترد کرتے ہیں؛ ہماری جانیں مکہ پر قربان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے اس فطری حق پر زور دیتے ہیں کہ اس جارحیت کا تمام جائز ذرائع سے جواب دیں، اور ہم اپنی قیادت اور فوج کو مناسب طریقے سے جواب دینے کا مکمل اختیار دیتے ہیں۔ اعلامیے کے اختتام پر تمام حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور اداروں سے اپیل کی گئی ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں یا حقیقی اور قابلِ فخر میدانوں اور محاذوں پر ہمارا مقابلہ کریں، تاکہ مقدساتِ امت کے دفاع میں سچ بولنے والے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔