راہل گاندھی کا بی جے پی پر ’گوکل ڈیری‘ انتخابات کا مینڈیٹ پلٹنے کا الزام، قواعد میں تبدیلی کو بتایا ووٹوں کی چوری
10
M.U.H
05/11/2026
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعرات کو بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ مہاراشٹر کے کولہاپور میں ’گوکل مِلک کوآپریٹو‘ کے انتخابات کے مینڈیٹ کو پلٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی قیادت والے پینل کی جانب سے بی جے پی کی حمایت یافتہ ’مہایوتی‘ اتحاد کو شکست دینے کے بعد قواعد تبدیل کر دیے گئے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بی جے پی نے انتخابات کے بعد قواعد میں تبدیلی کی تاکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اکثریت حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے اسے ’دودھ پیدا کرنے والوں کے ووٹوں کی چوری‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’گوکل میں دودھ پیدا کرنے والوں نے بی جے پی کو شکست دے دی۔ تو بی جے پی نے انتخابات کے بعد قواعد تبدیل کر دیے۔ 4 ڈائریکٹرز ٹھونسو، 12 کو 16 بناؤ، اکثریت چرا لے جاؤ۔ یہ دودھ پروڈیوسرز کے ووٹوں کی چوری ہے... مینڈیٹ میں ملاوٹ ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’بی جے پی اس قدر بے چین ہو چکی ہے کہ ہر جگہ اقتدار بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا رہی ہے۔ دودھ پیدا کرنے والوں کے ووٹ چرانے والے یاد رکھیں، کسان بھولتا نہیں ہے۔‘‘
اس سے قبل کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بھی مجوزہ تبدیلیوں کو لے کر مہاراشٹر حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’مہاراشٹر حکومت ’گوکل ملک فیڈریشن‘ میں دودھ پیدا کرنے والوں کے جمہوری مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی بے شرمانہ کوشش کر رہی ہے۔ اس کے لیے وہ قانونی تبدیلیوں کا سہارا لے کر منتخب بورڈ کی ساخت میں ہیر پھیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’19 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں کانگریس کی قیادت والے پینل نے 25 میں سے 13 سیٹیں جیتیں اور ’مہایوتی‘ کی 12 سیٹوں کے مقابلے میں اکثریت حاصل کی۔ جب ’مہایوتی‘ کی حمایت یافتہ ایک ڈائریکٹر نے اجلاس سے غیر حاضر رہ کر چیئرمین کے انتخاب کو روک دیا، تو بمبئی ہائی کورٹ نے 10 نومبر کو دوبارہ انتخابات کرانے کی ہدایت دی۔‘‘
کھیڑا نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی جانکاری دی تھی کہ ’’منتخب بورڈ کو کام کرنے دینے کے بجائے ریاستی کابینہ نے 4 سرکاری ڈائریکٹرز کو نامزد کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے، جنہیں ووٹ دینے کا حق بھی حاصل ہوگا۔ اس سے انتخابی مساوات تبدیل ہو سکتی ہے اور دودھ پروڈیوسرز کے مینڈیٹ کو پلٹا جا سکتا ہے۔‘‘ انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی حکومت انتخابات کے بعد محض اس لیے قواعد تبدیل کر سکتی ہے کہ اسے نتائج پسند نہیں آئے؟ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ہم جمہوری مینڈیٹ اور کوآپریٹو اداروں کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں۔
یہ بیانات کانگریس کی قیادت والے ’راج رشی شاہو شیتکاری سموچار اگھاڑی‘ کی جیت کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس پینل کی قیادت کانگریس کے سینئر لیڈر ستیج پاٹل کر رہے تھے۔ اس نے کولہاپور ڈسٹرکٹ کوآپریٹو ملک پروڈیوسرز یونین، یعنی مشہور گوکل ڈیری کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ مجموعی طور پر 25 سیٹوں میں سے اس پینل نے 13 سیٹیں جیتیں، جبکہ بی جے پی کی حمایت یافتہ مہایوتی اتحاد کو 12 سیٹیں ملیں۔ مہایوتی میں بی جے پی، شیوسینا اور این سی پی شامل ہیں۔ انتخابات کے نتائج کا باضابطہ اعلان 19 اکتوبر کو کیا گیا تھا۔ اس نتیجے کو حکمراں اتحاد کے لیے جھٹکے کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ انتخابات کوآپریٹو ملک پروڈیوسرز یونین کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر کنٹرول طے کرنے کے لیے کرائے گئے تھے۔ یہ یونین گوکل ڈیری برانڈ کے نام سے کام کرتی ہے۔