کرناٹک:رمضان میں اردو اسکولوں کا وقت تبدیل،بی جے پی کو اعتراض
25
M.U.H
02/02/2026
بنگلورو (کرناٹک) : کرناٹک حکومت نے رمضان کے مہینے کے دوران اردو میڈیم جونیئر پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے اوقات کار میں ترمیم کی ہے۔ ریاست کے ڈائریکٹوریٹ آف اردو اینڈ ادر مائنارٹی لینگویج اسکولز کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق، اب یہ اسکول صبح 8 بجے سے دوپہر 12 بج کر 45 منٹ تک چلیں گے۔ یہ نیا وقت رمضان کے آغاز (جو ممکنہ طور پر فروری کے وسط سے شروع ہوگا) سے 20 مارچ تک نافذ رہے گا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کانگریس پر "اقلیت نوازی کی سیاست" کرنے کا الزام لگایا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت کسی ہندو تہوار کے لیے بھی ایسا ہی قدم اٹھائے گی۔
کرناٹک قانون ساز کونسل میں قائد حزب اختلاف چلاواڈی نارائن سوامی نے کہا، "یہ ان کی اقلیت نوازی کی سیاست کو ظاہر کرتا ہے۔ کانگریس پارٹی ہمیشہ ہندو دھرم کے خلاف جاتی ہے۔ خود سدارامیا ایک ہندو ہونے کے باوجود ایسا کر رہے ہیں۔ اگر آپ رمضان کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں تو پھر ہندوؤں کو کیوں نہیں؟ کرناٹک کے عوام کو محسوس ہوگا کہ یہ حکومت صرف مسلمانوں کے لیے اور ووٹوں کے فائدے کے لیے ہے۔"
بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پوناؤالا نے سوال کیا کہ کیا کرناٹک حکومت نوراتری کے دوران بھی ایسا ہی کرے گی۔ انہوں نے اے این آئی سے کہا، "اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ کرناٹک میں رمضان کے دوران اسکولوں کے اوقات مختلف ہوں گے۔ لیکن کیا حکومت نے کسی ہندو تہوار کے دوران ایسی کوئی رعایت دی ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ اساتذہ اور عملہ رمضان میں جلدی جا سکتا ہے، تو کیا نوراتری میں بھی اس کی اجازت دیں گے؟
کانگریس ہمیشہ اپنے ووٹ بینک کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کے پاس آئین کے مطابق منصفانہ اور مساوی طور پر کام کرنے کا وژن نہیں ہے۔ یہ بات کرناٹک میں بار بار دیکھی گئی ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے بی جے پی کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ردعمل دیا۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے الزام لگایا کہ بی جے پی لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا، ان لوگوں کو ہزاروں سالوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ وہ برابر بنیں؟ اگر یہ برداشت نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ مساوی سلوک کے خلاف ہیں۔ کرناٹک کے وزیر سنتوش لاڈ نے کہا، ان کے پاس بات کرنے کے لیے بڑے مسائل ہونے چاہئیں۔ انہیں ایران پر بات کرنی چاہیے۔ وہ صرف اردو، بنگلہ دیش، پاکستان اور مسلمانوں پر ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کو 50 روپے میں ایندھن کون دے رہا ہے؟ اب اقلیت نوازی کون کر رہا ہے؟