فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی صنعت کے اجلاس میں کہا ہے کہ یورپ کو متوازن اور باہمی فائدہ مند تجارتی شراکتوں کی تلاش کرنی چاہیے، مگر یہ شراکتیں یورپ کی خودمختاری کو مضبوط کرنے والی ہونی چاہئیں، نہ کہ اس پر دیگر ممالک کا انحصار بڑھائیں۔
میکرون نے یورپ کی کمیاب اور اسٹریٹیجک مواد پر انحصار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی اور معدنی معاہدے حقیقی سرمایہ کاری، حقیقی پیداوار، حقیقی فیکٹریوں اور حقیقی سپلائی چین میں تبدیل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ایک حقیقی توانائی اتحاد قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ یورپ کی صنعتوں کے لیے مستحکم، قابل پیش گوئی اور مسابقتی توانائی فراہم کی جا سکے اور روس، چین اور امریکہ پر انحصار کم ہو۔
صدر میکرون نے زور دیا کہ یورپ کو اپنی ضروری معدنیات اور وسائل کے ذرائع متنوع بنانے چاہئیں تاکہ اس کی کمزوری کم ہو، اور اس کے لیے افریقہ، لاطینی امریکہ، آسٹریلیا اور ایشیا کے ممالک کے ساتھ مشترکہ معدنی اور صنعتی معاہدے کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ یورپ کسی ایک یا دو ممالک پر منحصر نہ رہے۔
انہوں نے چین اور امریکہ کی وسیع سرمایہ کاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں یورپ سے کہیں زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور یورپ اس میں پیچھے ہے۔
آخر میں میکرون نے واضح کیا کہ وہ داخلی صنعتوں پر حد سے زیادہ تحفظ کے حامی نہیں ہیں، مگر نہ ہی وہ ایسا یورپ چاہتے ہیں جو دنیا میں سادہ لوح ہو اور صرف داخلی پیداوار کی حمایت نہ کرے۔