بھارت بند: کسان تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں کی ملک گیر ہڑتال، تجارتی معاہدہ اور نئے لیبر قوانین کے خلاف احتجاج
14
M.U.H
12/02/2026
سنیوکت کسان مورچہ اور ملک کی 10 سے زائد کسان تنظیموں کے ساتھ کئی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے آج بھارت بند کا اعلان کرتے ہوئے ملک گیر عام ہڑتال شروع کر دی ہے۔ کئی اپوزیشن جماعتیں بھی اس احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں۔ کسان اور مزدور تنظیمیں ہند-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے، نئے لیبر کوڈ، بجلی بل 2025، بیج بل 2025 اور وی بی جی رام جی قانون 2025 کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہیں۔
سنیوکت کسان مورچہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ احتجاج نیو لیبر کوڈ کو واپس لینے، بجلی اور بیج سے متعلق مجوزہ قوانین کو رد کرنے، وی بی جی رام جی قانون 2025 کو منسوخ کرنے، پرانی پنشن اسکیم بحال کرنے اور مزدوروں سمیت اسکیم کارکنان کے لیے کم از کم اجرت نافذ کرنے جیسے مطالبات پر مرکوز ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ زرعی مزدور یونینوں کا پلیٹ فارم اور نریگا سنگھرش مورچہ بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔
ٹریڈ یونینوں کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال میں منظم اور غیر منظم شعبوں کے لاکھوں مزدور شامل ہیں۔ کسان تنظیموں نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل ہو کر صنعتی مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ ان کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیاں کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائی جا رہی ہیں، جس سے عام لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے۔
کسان تنظیموں کا سب سے شدید اعتراض بجلی بل 2025 اور بیج بل 2025 پر ہے۔ ان کے مطابق نیا بجلی قانون کسانوں اور گھریلو صارفین کے لیے نرخ بڑھا سکتا ہے اور اسمارٹ میٹر نافذ کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ بیج بل کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سے کثیر قومی کمپنیوں کا اثر و رسوخ بڑھے گا، بیجوں کی قیمتیں من مانی طور پر طے کی جا سکیں گی اور کالابازاری کو فروغ مل سکتا ہے۔ کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمارٹ میٹر منصوبہ روکا جائے اور سبھی صارفین کو 300 یونٹ مفت بجلی دی جائے۔
وی بی جی رام جی قانون 2025 جسے منریگا کے متبادل کے طور پر نافذ کیا گیا ہے، اس پر مزدور تنظیموں کا ان کا کہنا ہے کہ منریگا نے دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت فراہم کی، مگر نیا قانون اس حق کو کمزور کر سکتا ہے۔ اسی لیے نریگا سنگھرش مورچہ اور سنیوکت کسان مورچہ نے اسے دیہی روزگار پر حملہ قرار دیا ہے۔
ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کو بھی تنظیموں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ معاشی نو آبادیات کا خاکہ ہے اور اس کے دباؤ میں سرکار زرعی شعبے سے متعلق مراعات واپس لینے اور عوامی تقسیم نظام کو کمزور کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ سے سستے زرعی اور ڈیری مصنوعات کی درآمد سے مقامی کسانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی بھارت بند کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں مزدور اور کسان اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب ان کے مستقبل سے متعلق فیصلے لیے گئے تو ان کی آواز کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ کیا وہ عوام کی بات سنیں گے۔
سنیوکت کسان مورچہ نے 2020-21 کی کسان تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران سینکڑوں کسان جان کی بازی ہار گئے، مگر حکومت نے وعدے پورے نہیں کیے۔ تنظیم نے تمام کسانوں اور مزدوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر ان پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کریں جنہیں وہ عوام مخالف قرار دے رہی ہے۔