اپنی کتاب جنرل منوج مکند نرونے کی پہلی عوامی وضاحت، پینگوئن کے بیان کو کیا ری پوسٹ
18
M.U.H
11/02/2026
سابق فوجی چیف جنرل منوج مکند نرونے نے اپنی کتاب ’فور اسٹارس آف ڈیسٹنی‘ سے متعلق جاری تنازعہ کے درمیان پہلی بار عوامی سطح پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ منگل کے روز انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے سرکاری بیان کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کتاب کی موجودہ صورت حال یہی ہے۔ ان کے اس مختصر تبصرے کو جاری سیاسی بحث کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ جنرل نرونے کی خود نوشت ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے اور اس کی کوئی بھی نقل نہ تو مطبوعہ شکل میں جاری کی گئی ہے اور نہ ہی ڈیجیٹل صورت میں عوام کے لیے دستیاب کرائی گئی ہے۔ پبلشر کے مطابق کتاب کی اشاعت کے حقوق صرف اسی کے پاس ہیں اور جو نسخے گردش میں ہیں وہ غیر مجاز سمجھے جائیں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی کتاب کا اعلان ہونا یا اسے پری آرڈر کے لیے دستیاب کرانا اشاعت کے مترادف نہیں ہوتا۔
یہ معاملہ اس وقت سیاسی رنگ اختیار کر گیا تھا جب لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ کتاب عوامی دائرے میں موجود ہے اور حکومت اس میں موجود غیر سہولت آمیز انکشافات کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ پبلشر کے مقابلے میں سابق فوجی چیف کے بیان پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس تنازعہ کو ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے بھی جوڑا تھا اور حکومت پر تنقید کی تھی۔
جنرل نرونے کی جانب سے پینگوئن کے بیان کو ری پوسٹ کیے جانے کے بعد کتاب کی اشاعت سے متعلق ابہام کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم سیاسی سطح پر بحث کا سلسلہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس موضوع پر گفتگو جاری ہے۔