اکھلیش یادو نے ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے پر سوال اٹھائے
16
M.U.H
10/02/2026
نئی دہلی:سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے منگل کے روز ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید حملہ کیا اور کہا کہ حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کوئی فائدہ مند معاہدہ طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔
بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے اکھلیش یادو نے زمینی حقائق پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایوانِ زیریں میں خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا كہ امریکہ سے ڈیل کوئی ڈھیل نہیں ہوئی ہے… آخر کیوں جھوٹے خیالات میں دن رات گزاریں؟ جو لوگ ہوا میں باتوں کے محل بناتے ہیں، آئیے ان سے کچھ زمینی بات کریں۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بی جے پی قیادت والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے سوال کیا کہ اب تک کتنے ممالک ایسے ہیں جن کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے نہیں ہوئے؟
انہوں نے کہا كہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو لے کر پورے ملک میں بحث ہو رہی ہے۔ بی جے پی کہہ رہی ہے کہ اس نے کئی ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کیے ہیں۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب کتنے ممالک باقی رہ گئے ہیں جن کے ساتھ ایسے معاہدے ہونا ابھی باقی ہیں؟
اکھلیش یادو نے فری ٹریڈ ایگریمنٹس پر اپنی تشویش دہراتے ہوئے مزید کہا کہ بجٹ سے پہلے اور بجٹ کے بعد پورے ملک میں یہ چرچا رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا، بی جے پی کی ایک رکن کہہ رہی تھیں کہ حکومت دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ پہلے ہی آزاد تجارتی معاہدے کر چکی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان، امریکہ کی تمام صنعتی مصنوعات پر محصولات ختم یا کم کرے گا اور ساتھ ہی امریکی غذائی اور زرعی مصنوعات کی ایک وسیع رینج پر بھی رعایت دی جائے گی، جن میں ڈرائیڈ ڈسٹلرز گرینز ، جانوروں کے چارے کے لیے سرخ جوار، درختی میوہ جات، تازہ اور پروسیس شدہ پھل، سویا بین تیل، شراب اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
اکھلیش یادو نے حکومت سے سوال کیا کہ امریکہ کے ساتھ زیرِ غور معاہدے کے تناظر میں اہم وعدوں پر عمل درآمد کہاں ہے اور ’آتم نربھر‘ اور ’سودیشی‘ جیسے نعروں کی اب کیا معنویت رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا كہ اس بجٹ کے فائدے یہاں کم اور وہاں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ معزز اسپیکر، ‘سودیشی’ اور ‘آتم نربھر’ جیسے الفاظ سننے میں تو بہت اچھے لگتے ہیں، لیکن جب یہ معاہدہ ہو جائے گا تو کیا بجٹ لانے سے پہلے ان لفظوں کو ان کے اصل معنی سے خالی نہیں کر دیا گیا؟
بجٹ کے زمینی اثرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا كہ بجٹ اور برسوں سے حکومت کے کام کاج کا جائزہ لیتے ہوئے میں جھوٹے وعدوں کے بجائے زمینی حقیقتوں پر بات کرنا چاہتا ہوں۔
مغربی بنگال، بہار اور اتر پردیش جیسی انتخابی ریاستوں میں ترقی کے عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ ان ریاستوں میں بلٹ ٹرین منصوبے کیوں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا كہ بنگال، بہار اور یوپی میں بلٹ ٹرین کیوں نہیں ہے؟ بی جے پی حکومت میں بہت زیادہ امتیاز ہے۔ بی جے پی کے ایم ایل اے نے خود وزیر کو گھیر لیا تھا۔ وارانسی میں میٹرو کیوں نہیں بچھائی گئی؟ ایم او یوز تو سائن ہوئے، لیکن زمین پر کتنے نافذ ہوئے؟ حکومت کو چین کے معاملے میں بھی احتیاط سے فیصلے لینے چاہئیں۔ ‘میک ان انڈیا’ کا شیر جنک فوڈ کھا رہا ہے۔
ادھر، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایوان کے سکریٹری جنرل کو ہدایت دی ہے کہ ان کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کے نوٹس کا جائزہ لے کر مناسب کارروائی کی جائے۔ ذرائع کے مطابق، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط نہیں کیے، کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں قائدِ حزبِ اختلاف کا اسپیکر کو ہٹانے کی عرضی پر دستخط کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا