صدر پزشکیان: ایران نے بیرونی دباؤ اور سازشوں کا مقابلہ اتحاد، قربانی اور استقامت سے کیا
16
M.U.H
11/02/2026
تہران میں 22 بہمن کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے بیرونی دباؤ اور سازشوں کے خلاف قوم کی استقامت کو اجاگر کیا۔
اپنے خطاب میں صدر نے 1979 سے اب تک ملک کے سفر کا جائزہ لیا اور ابتدائی چیلنجز، جیسے نسلی کشیدگیاں، رژیم چینج کی کوششیں اور بیرونی مداخلت کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک اور امریکہ نے ہماری انقلاب کو روکنے کی کوشش کی اور ہمیں تقسیم اور قابو پانے کے لیے آٹھ سالہ جنگ مسلط کی۔
صدر نے دفاع مقدس کے شہداء کے کردار کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ان کی قربانیوں کے بغیر آج کا ایران بالکل مختلف ہوتا۔ انہوں نے قاسم سلیمانی، محمد باقری اور حسین سلامی جیسے نامور کمانڈروں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں قوم کی خدمت کے لیے بے لوث عزم کی علامت قرار دیا۔
اپنے خطاب کے دیگر حصوں میں، پزشکیان نے داخلی چیلنجز سے نمٹنے، خارجی سازشوں کا مقابلہ کرنے، اور منصفانہ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے علاقائی ممالک کے پرامن سفارتی تعاون میں کردار کو سراہا۔
صدر نے کہا کہ ملکی ترقی کا انحصار سب سے پہلے داخلی اتحاد اور ہم آہنگی پر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دھمکیوں، سازشوں اور ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں کے سامنے کوئی متبادل نہیں بلکہ اتحاد ہے۔
پزشکیان نے حکومت کے عوامی مسائل کے حل اور خدمت کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے اس بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کا مقصد عدل و انصاف قائم کرنا اور تفریق و امتیاز کو ختم کرنا ہے۔
صدر نے علاقائی اور اسلامی ممالک کے تعمیری کردار کو بھی سراہا جنہوں نے سازشوں کا مقابلہ کرنے میں تعاون کیا۔ انہوں نے ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کی کوششوں کا اعتراف کیا جنہوں نے پرامن سفارتی حل کی حمایت کی اور اسرائیل و امریکہ کو نقصان دہ منصوبے عملی جامہ پہنانے سے روکا۔