ایرانی قیادت اور مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کیاجائے گا: مولاناکلب جوادنقوی
5
M.U.H
11/02/2026
یوپی پریس کلب میں ’امن و آشتی کی حمایت ،ظلم و ناانصافی کی مخالفت ‘ کے بینر پر ’امن و انصاف تحریک ‘ کے زیر اہتمام پریس کانفرنس کا انعقاد
لکھنؤ ۱۱ فروری : ’امن و انصاف تحریک ‘ کے زیر اہتمام آج اترپردیش پریس کلب لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس بعنوان ’ امن و آشتی کی حمایت ،ظلم و ناانصافی کی مخالفت ‘ منعقد ہوئی جس میں مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولاناکلب جوادنقوی ،ادارہ تنظیم المکاتب کے سکریٹری مولاناصفی حیدر زیدی اور معروف عالم مولاناجہاں گیر عالم قاسمی سمیت متعدد مذہبی رہنمائوں نے شرکت کی اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بدامنی اور انصاف کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا۔خاص طورپر امریکی آمریت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی ۔
ابتدا میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صفی حیدر زیدی نے کہاکہ ہم آج اس مقصد کے لئے جمع ہوئے ہیں کہ امن وآشتی کی حمایت اور عالمی سطح پر پر جاری ظلم و ناانصافی کی مخالفت کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ چونکہ ہمارا ملک ہندوستان ہمیشہ امن کا حامی اور جنگ کا مخالف رہاہے اس لئے ہم یہاںجمع ہوئے ہیں تاکہ اپنے ملک کے باشندوں کےساتھ مل کر امن اور اتحاد کا پیغام عام کیاجائے ۔ہم اس راہ میں مسلسل کوششیں کررہے ہیں کہ سبھی مذاہب کے ماننے والے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر دنیا میں پھیلی ہوئی بدامنی اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کریں ۔مولانانے کہاکہ ہمارے ملک میں انصاف اور امن کے لئے آواز اٹھانے والے کم نہیں ہیں ،اس لئے ہم سب کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انصاف اور امن کبھی جارحیت سے قائم نہیں ہوسکتا۔آج استعماری طاقتیں طاقت کےنشے میں دنیا کا امن برباد کرنے پر تلی ہیں ۔خاص طورپر جس طرح ایران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں وہ آمریت کی کھلی دلیل ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم اس موقع پر ’قومی امن مہم ‘ کا اعلان کرتے ہیں جس کے ذریعہ ہم قومی سطح پر دستخطی مہم ،احتجاجات ،کانفرنسوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس جارحانہ طرز عمل کے خلاف منظم اور مسلسل آواز بلندکریں گے ۔یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے ۔اگر آج ایک ملک کی قیادت کو نشانہ بنایاگیاتو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ہم ایران کے عوام اور اس کی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ہر قسم کی دھمکی آمیز سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولاناکلب جوادنقوی نے کہاکہ دنیا کی موجودہ صور ت حال انتہائی تشویش ناک ہے ۔عالمی طاقتیں دنیا میں بدامنی اور جنگ کا فروغ چاہتی ہیں جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پہلے بھی کچھ طاقتوں نے دنیا پر قبضہ کرکے اپنی کالونی قائم کرلی تھی ۔انہوں نے کمزور ملکوں پر قبضہ کرکے ان کے قدرتی ذخائر اور معدنیات کو اپنے کنٹرول میں لے لیاتھا،آج بھی یہی کوشش ہورہی ہےکہ کمزور ملکوں پر قبضہ کرکے ان کے قدرتی ذخائر اور معدنیات کو اپنے کنٹرول میں لے لیاجائے ۔ان طاقتوں نے الگ الگ بہانوں سے افغانستان ،عراق ،شام اور لیبیا کو تباہ کردیااور اب ان کی ناپاک نظریں ایران کی طرف اٹھ رہی ہیں ۔مولانانے کہاکہ جس طرح وینزویلا کے صدر کو امریکہ نے اغواکیااس کی عالمی سطح پر مخالفت ہونی چاہیے تھی مگر افسوس دنیا خاموش تماشائی بنی رہی ۔وینزویلا پر قبضے کا اصل مقصد تیل کے ذخائر کو اپنے استعمال میں لیناتھا۔اس وقت دنیا میں تیل پر قبضے کی جنگ ہے جس میں امریکہ پیش پیش ہے ۔مولانانے کہاکہ امریکی صدر جس طرح ایک خودمختاراور جمہوری ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہاہے اس کی مذمت ہونی چاہیے ۔امریکی صدر نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کو اغواکرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں ،جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔مولانانے کہاکہ ہم ہرگز یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنایاجائے یا ہمارے مقدس مذہبی مقامات پر حملے کئے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر عراق یا ایران میں ہماری مذہبی قیادت اور مقدس مقامات پر حملے کئے گئے تو ہم ہندوستان میں کسی بھی مقدس مذہبی مقام پر کسی امریکی اور اسرائیلی کو نہیں آنے دیں گے ،یہ بات ہم اپنی حکومت سے بھی کہناچاہتے ہیں ۔مولانانے قومی میڈیا کے رویے کی مذمت کی اور کہاکہ میڈیا کی ذمہ داری سچائی کی حمایت ہے مگر میڈیا اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل کی آمریت کا ساتھ دے رہاہے ۔امریکہ اور اسرائیل جس کو آتنک وادی کہتے ہیں میڈیا بھی اسی کو آتنک وادی کہنا شروع کردیتاہے ۔یہ رویہ ذہنی اور فکری غلامی کی نشاند ہی کرتاہے ۔مولانانے کہاکہ جو ملک پوری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں ان کی مذمت کے بجائے میڈیا کبھی آیت اللہ خامنہ ای کی اہانت کرتاہے جو ناقابل برداشت ہے اور کبھی سید حسن نصراللہ اور قاسم سلیمانی کو دہشت گرد کہتاہے ۔مولانانے کہاکہ غزہ میں اسرائیل نے سینکڑوں صحافیوں کو قتل کردیامگر میڈیا مذمت سے گریز کرتاہے ۔اسرائیل فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہے اور مسلسل ان کی نسل کشی کررہاہے مگر فلسطینیوں کے حق کی بات کرنے کے بجائے اسرائیلیوں کی مظلومیت کا مرثیہ پڑھاجارہاہے ۔اگر میڈیا نے اپنے رویے میں تبدیلی نہیں کی تو ہم احتجاج کریں گے ۔مولانانے سلامتی کونسل میں ایران کے حق میں ووٹ کرنے پر ہندوستانی سرکار کا بھی شکریہ اداکیااور کہاکہ بھارت کو فلسطین اور ایران کے حق میں اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہناچاہیے ،یہی ہمارا مطالبہ ہے ۔مولانانے پاکستان کے پایۂ تخت اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی بھی مذمت کی اور کہاکہ پاکستان میں سرکار اور فوج کی سرپرستی میں شیعوں کی نسل کشی کی جارہی ہے مگر دنیا خاموش ہے ۔خاص طورپر ہمارے ملک کے علما اور مفتی شیعہ نسل کشی پر چپ ہیں جس سے دہشت گردوں کے حوصلوں کو تقویت ملتی ہے ۔
مولانا جہانگیر عالم قاسمی نے کہاکہ ظلم کہیں بھی ہو اور کسی پر بھی ہورہاہواس کی مذمت ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی قابل مذمت ہے جس پر دنیا کو بیدار ہوناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کا فروغ امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ہورہاہے ۔انہوں نے غزہ میں معصوم بچوں اور بے گناہوں کا قتل عام کیا ۔نتن یاہو اور ٹرمپ انسانیت کے مجرم ہیں جنہیں ہرگز معاف نہیں کیاجاسکتا۔مولانانے کہاکہ جب تک امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتیں سرگرم ہیں امن قائم نہیں ہوسکتا۔انہوں نے امریکی صدر کے ذریعہ ایران کی قیادت کو قتل اور اغواکی دی جارہی دھمکیوں کو بھی ناقابل برداشت قراردیااور عالم اسلام نیز دنیا کے تمام امن پسندانسانوں سے استعماری طاقتوں کے خلاف متحدہونے کی اپیل کی ۔
پریس کانفرنس میں مولانا سید کلب جوادنقوی ،مولانا سید صفی حیدر زیدی،مولانا جہاں گیر عالم قاسمی ،مولانا رضاحسین رضوی ،مولانا صفدر حسین جون پوری ،مولانا کاظم مہدی عروج جونپوری ،مولانا عادل فراز نقوی اوراوکھلا دہلی سے احسان احمد نے شرکت کی ۔
مطالبات:
کانفرنس کے اختتام پر مولاناصفی حیدر زیدی نے اتفاق رائے سے مطالبات پیش کئے ۔
۱۔ایران کی قیادت کے خلاف ہر قسم کی قتل و اغوا کی دھمکیوں کو فوری طورپر بند کیاجائے ۔
۲۔بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا عالمی احتساب کیاجائے ۔
۳۔جنگی دھمکیوں کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے ۔
۴۔امن کے استحکام کے لئے اقوام متحدہ اور عالمی ادارے فوری مؤثر کردار اداکریں ۔