پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں شیعوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ جاری :مولاناکلب جوادنقوی
5
M.U.H
13/02/2026
اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوئے دہشت گردانہ واقعے کے خلاف نماز جمعہ کے بعد آصفی مسجد میں ہوا احتجاج ،پاکستان مردہ باد کے نعرے لگے
لکھنؤ ۱۳ فروری : پاکستان کے پایۂ تخت اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوئےدہشت گردانہ حملے اور سرکاری سرپرستی میں شیعوں کی منظم نسل کشی کے خلاف آج مجلس علمائے ہند کے زیر اہتمام آصفی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج ہوا۔احتجاج کی رہنمائی مولاناکلب جوادنقوی نے کی ۔مظاہرین نے پاکستان سرکار ،فوج ،پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف ،جنرل عاصم منیر اور دہشت گردی کے بانی امریکہ و اسرائیل کے خلاف ’مردہ باد ‘ کے نعرے لگائے ۔احتجاج میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی تصویر جلاکر مظاہرین نے اپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔مظاہرین نے اقوام متحدہ اور حقو ق انسانی کی تنظیموں سے مطالبہ کیاکہ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قراردیاجائے ۔
مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولاناکلب جوادنقوی نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں شیعوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے ۔شیعوں کی مساجد اور امام باڑوں میں دھماکے ہوتے ہیں ،ہزاروں شیعہ جوانوں کا اغواکرکے انہیں غائب کردیاجاتاہے ،جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔مولانانے کہاکہ پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی ہورہی ہے ،جس کے پیچھے تکفیری گروہوں کا ہاتھ ہے ۔پاکستان نے ہمیشہ دہشت گرد گروہوں کو بڑھاوادیااور ریاستی سرپرستی میں شیعوں کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔مولانانے مزید کہاکہ جب سے برطانیہ کی سرپرستی میں وہابیت اور تکفیریت کا سلسلہ شروع ہواتب سے دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوا۔انہوں نے کہاکہ شیعوں پر جتنے بھی ظلم ہوتے ہیں کافرومشرک کہہ کر ہوتے ہیں کیونکہ یہ وہابیت اور تکفیریت کا شیعوں کے خلاف فتویٰ ہے ۔اسی بناپر تکفیری تنظیمیں شیعوں کے خلاف خودکش حملے کرتی ہیں اور ان کی نسل کشی کی جاتی ہے ۔مولانانے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یہ دہشت گردتنظیمیں چھوٹے چھوٹے بچوں کا برین واش کرکے دہشت گردانہ واقعات انجام دیتی ہیں ۔یہ منصوبہ بندی مدتوں پرانی ہے ،جس کے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں۔یہ تنظیمیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو دہشت گردی کی تربیت دیتی ہیں،جس کے لئے تکفیری مولویوں کو موٹی فنڈنگ ہوتی ہے ۔مولانانے مزید کہاکہ ان دہشت گرد تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ وہ کافروں اور مشرکوں کا قتل کرتے ہیں توپھر ٹرمپ کا استقبال کیوں جارہاتھا؟امریکی صدر کے سامنے مسلم حکمران اپنی ناموس کیوں پیش کررہے تھے ؟کیا ٹرمپ مسلمان تھا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسلم حکمران امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو دہشت گردنظریات کی پشت پناہی کرتے ہیں اور انہیں فروغ دیتے ہیں۔
مولانانے آگے کہاکہ پوری دنیامیں امریکی اور اسرائیلی سازشوں کا مقابلہ صر ف شیعہ کررہے ہیں اس لئے ان کا قتل عام کیاجارہاہے ۔پوری دنیا کے مسلم حکمران امریکہ و اسرائیل کے سامنے تسلیم ہوچکے ہیں ،صرف شیعہ مزاحمت کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی بڑی بڑی مسلم تنظیمیں بھی شیعہ نسل کشی اور دہشت گردی پر خاموش رہتی ہیں اور ان کی طرف سے کوئی مذمتی بیان تک نہیں آتا،اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تنظیمیں بھی عالمی طاقتوں کی آلۂ کار ہیں اور ان کی ذہنیت بھی دہشت گرد تنظیموں سے مختلف نہیں ۔مولانانے کہاکہ ظلم کسی بھی مذہب اور عقیدے کے لوگوں پر ہورہاہوہم اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ،تاکہ ہمارا انسانی فریضہ اداہوسکے ۔ہم احتجاج کرکے پیغام دیتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے حامی نہیں بلکہ مظلوموں کے حامی ہیں ۔مولانانے کہاکہ ہم اسلا م آباد کی جامع مسجد میں شہید ہونے والے تمام شہداء کے خانوادوں کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جب تک دہشت گردی پر دُہرا معیار ختم نہیں ہوگادہشت گردی بھی ختم نہیں ہوگی ۔
مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مولانارضاحیدر زیدی نے کہاکہ اسلام آباد کی جامع مسجد میں ہوادہشت گردانہ حملہ دراصل امریکہ اور اسرائیل کے اشارے پر تھا۔کیونکہ نماز جمعہ میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نمازی جمع ہورہے تھے اور یہ فیصلہ لیاگیاتھاکہ امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کی صورت میں تمام شیعہ ایران کی حمایت کریں گے ،اس لئے امریکہ نے داعش کے دہشت گردوں کے ذریعہ شیعوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے یہ خودکش دھماکہ کروایا۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ داعش کو امریکی اور اسرائیلی سرپرستی حاصل ہے جیساکہ کئی امریکی عہدیدار ماضی میں اس کا دعویٰ بھی کرچکے ہیں ۔مولانانے کہاکہ ہم پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شیعوں کو تحفظ فراہم کرایاجائے ۔مولانانے کہاکہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں ،ہمارے پاس الفاظ نہیں جن کے ذریعہ اس نسل کشی کے واقعات کی مذمت کی جائے ۔
احتجاج میں مولانا نقی عسکری ،مولانا شباہت حسین ،مولانا فیروز حسین ،مولانا حسن جعفر ، مولانا عادل فراز نقوی اور دیگرافراد نے شرکت کی ۔