بنگلہ دیش الیکشن میں بی این پی کی جیت، مودی نے طارق رحمان کو مبارکباد دی
22
M.U.H
13/02/2026
نئی دہلی: بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات میں بی این پی یعنی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو یکطرفہ اور زبردست کامیابی ملی ہے۔ اس بڑی جیت پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری، ترقی پسند اور ہمہ گیر بنگلہ دیش کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
درحقیقت، بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج میں بی این پی فیصلہ کن کامیابی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ پی ایم مودی نے اپنے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ کے ذریعے بی این پی چیف طارق رحمان کو جیت پر مبارک باد دی اور بنگلہ دیش کی ترقی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
پی ایم مودی کا بیان ، حمایت جاری رہے گی
پی ایم مودی نے ایکس پر لکھا كہ بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کو فیصلہ کن فتح دلانے پر میں طارق رحمان کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ کامیابی بنگلہ دیش کے عوام کے آپ کی قیادت پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا كہ ہندوستان ایک جمہوری، ترقی پسند اور ہمہ گیر بنگلہ دیش کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ میں آپ کے ساتھ مل کر ہمارے کثیر الجہتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے پُرامید ہوں۔
طارق رحمان کا وزیر اعظم بننا تقریباً طے
انتخابی نتائج میں بڑی کامیابی کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے صدر طارق رحمان کا وزیر اعظم بننا اب تقریباً یقینی ہو گیا ہے۔ طارق رحمان کے مشیر سید معززّم حسین الالا نے بی این پی کو ملی شاندار کامیابی اور حلف برداری کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ جماعتِ اسلامی کو بھی خاصی تعداد میں نشستیں ملی ہیں۔ حلف برداری کی تقریب ممکنہ طور پر 14 فروری کو منعقد ہوگی۔
بی این پی اکثریت سے کہیں آگے
بنگلہ دیش میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ 299 نشستوں میں سے بی این پی 200 سے زائد نشستوں پر برتری بنائے ہوئے ہے، جو کہ اکثریت کے لیے درکار 150 نشستوں کے ہندسے سے کہیں زیادہ ہے۔
وہیں، بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑی قوت سمجھی جانے والی جماعتِ اسلامی کو ان انتخابات میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔