ہندوستان 30 دن تک خرید سکے گا روسی خام تیل، امریکہ نے دی رعایت
33
M.U.H
06/03/2026
نئی دہلی: ایران جنگ کے باعث عالمی تیل بازار میں پیدا ہونے والی بے یقینی کے درمیان امریکہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے روس کو عارضی رعایت دے دی ہے۔ اس رعایت کے تحت روس آئندہ 30 دن تک ہندوستان کو خام تیل فروخت کر سکے گا۔ اس فیصلے سے سمندر میں رکے روسی تیل بردار جہازوں کے لیے راستہ کھلنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت نے عالمی تیل بازار پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کے مقصد سے یہ عارضی اجازت دی ہے۔ کئی مہینوں سے روس کے متعدد تیل ٹینکر سمندر میں کھڑے تھے کیونکہ خریدار اور ادائیگی کے نظام سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث ان کی ترسیل رک گئی تھی۔
خبر رساں ادارہ رائٹرز کے مطابق امریکہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ واشنگٹن نے روس کے توانائی شعبے پر عائد پابندیوں کے باوجود بعض مخصوص ترسیلات کو آگے بڑھانے کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی تیل سپلائی میں ممکنہ خلل کو کم کرنا بھی بتایا جا رہا ہے۔؎
روس کے کئی تیل بردار جہاز اس وجہ سے سمندر میں رکے ہوئے تھے کہ حالیہ امریکی پابندیوں کے بعد بیمہ، ادائیگی اور بندرگاہوں میں داخلے سے متعلق کئی سوالات پیدا ہو گئے تھے۔ امریکہ نے روسی تیل کی نقل و حمل سے وابستہ بعض شپنگ کمپنیوں اور ٹینکروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے باعث کئی جہاز اپنی منزل تک پہنچنے کے باوجود تیل اتارنے کے منتظر رہے۔
اسی صورتحال کے سبب ہندوستان کی تیل صاف کرنے والی کمپنیوں نے بھی کچھ عرصے کے لیے محتاط رویہ اختیار کیا تھا۔ انہیں اندیشہ تھا کہ کہیں روسی تیل خریدنا پابندیوں کی خلاف ورزی میں شامل نہ ہو جائے، اسی لیے کئی جہاز ساحل کے قریب کھڑے رہے۔
تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی سرکاری تیل ریفائنری کمپنیاں، جن میں انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن، ہندستان پیٹرولیم کارپوریشن اور مینگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز لمیٹڈ شامل ہیں، روسی خام تیل کی خریداری کے لیے تاجروں سے بات چیت کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستانی سرکاری ریفائنریوں نے پہلے ہی تقریباً دو کروڑ بیرل روسی خام تیل خریدنے کے معاہدے کر لیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ روسی تیل کی سپلائی کی دوبارہ بحالی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہندستان پیٹرولیم کارپوریشن اور مینگلور ریفائنری کو روسی خام تیل کی آخری بڑی کھیپ گزشتہ نومبر میں موصول ہوئی تھی۔