مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 91.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچی
19
M.U.H
07/03/2026
نئی دہلی: امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے کے سبب بین الاقوامی مارکیٹ میں ہفتہ کو خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 91.84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیدیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کا نرخ 89.62 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔اس اضافے کے ساتھ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں بالترتیب 24.55 فیصد اور 32 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی بڑھنے کے خدشات دوبارہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ برینٹ کروڈ فیوچرز نے اپریل 2024 کے بعد پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں دن کے دوران تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا۔
بھارت کے پاس خام تیل اور ایل پی جی کے ذخائر کافی
بھارت کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کے پاس فی الحال خام تیل، پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت نے بتایا کہ بھارتی تیل کمپنیاں خلیج کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی درآمدات بڑھا کر سپلائی کی کمی کو پورا کر رہی ہیں۔ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ بھارت توانائی کی فراہمی کے معاملے میں پُر سکون حالت میں ہے اور ضرورت پڑنے پر دیگر علاقوں سے درآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت 2022 سے روس سے خام تیل خرید رہا ہے، اور اب روس سے خام تیل کی خریداری مجموعی درآمدات کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے، یعنی روزانہ 10.4 لاکھ بیرل (1.04 ملین بیرل)۔
حکومت نے رِفائنریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایل پی جی کی پیداوار زیادہ سے زیادہ کریں اور گھریلو سپلائی کو ترجیح دیں، تاکہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے سبب کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ اس کے لیے پروپین اور بیوٹین جیسی اہم گیسوں کا استعمال ایل پی جی کی پیداوار میں ترجیحی طور پر کیا جائے۔