’نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ ہے‘، راہل گاندھی نے حکومت کو بنایا ہدف تنقید
27
M.U.H
14/04/2026
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نوئیڈا میں احتجاجی کارکنوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ تھی، جس کی آواز کو نظر انداز کیا گیا، جو اپنا حق مانگتے مانگتے تھک گئے۔ نوئیڈا میں کام کرنے والے ایک مزدور کی 12000 ماہانہ تنخواہ اور 4000 سے 7000 تک کرایہ۔ جب تک 300 روپے کا سالانہ اضافہ ملتا ہے، مکان مالک 500 روپے سالانکہ کرایہ بڑھا دیتا ہے۔ تنخواہ بڑھنے تک یہ بے لگام مہنگائی زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے، قرض کی گہرائی میں ڈوبا دیتی ہے۔ یہی ہے ترقی یافتہ ہندوستان کا سچ۔
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پوسٹ میں ایک خاتون مزدور کے بیان کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ایک خاتون مزدور نے کہا کہ گیس کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن ہماری تنخواہ نہیں۔ ان لوگوں نے شاید اس گیس بحران کے دوران اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے 5000 کا بھی سلنڈر خریدا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’یہ صرف نوئیڈا کی بات نہیں ہے، اور یہ صرف ہندوستان کی بھی بات نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے سپلائی چین ٹوٹ گئی ہے۔ لیکن امریکہ کے ٹیرف وار، عالمی مہنگائی اور ٹوٹتی سپلائی چین کا بوجھ مودی کے دوست صنعتکاروں پر نہیں پڑا۔ اس کی سب سے بڑی مار پڑ رہی ہے اس مزدور پر جو یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے تبھی روز کھاتا ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’وہ مزدور، جو کسی جنگ کا حصہ نہیں، جس نے کوئی پالیسی نہیں بنائی - وہ بس کام کرتا رہا۔ خاموشی سے، بغیر کسی شکایت کے۔ اور جب وہ اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے کیا ملتا ہے؟ دباؤ اور جبر۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایک اور نہایت اہم مسئلہ - مودی حکومت نے جلد بازی میں بغیر کسی مشاورت کے نومبر 2025 سے 4 لیبر کوڈ نافذ کر دیے، جن کے تحت کام کے اوقات کو بڑھا کر روزانہ 12 گھنٹے تک کر دیا گیا۔ وہ مزدور جو روزانہ 12–12 گھنٹے کھڑا ہو کر کام کرتا ہے، اور پھر بھی اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کرنے کے لیے قرض لیتا ہے - کیا اس کا مطالبہ غیر معقول ہے؟ اور جو ہر روز اس کے حقوق کو کچل رہا ہے - کیا اسے ترقی کہا جا سکتا ہے؟‘‘ ان کے مطابق نوئیڈا کا مزدور 20000 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ لالچ نہیں بلکہ یہ اس کا حق ہے، اس کی زندگی کی واحد بنیاد ہے۔ میں ہر ایسے مزدور کے ساتھ کھڑا ہوں، جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس حکومت نے اسے بوجھ بنا دیا ہے۔