ایران نے امریکی ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا
30
M.U.H
18/04/2026
ایران نے امریکی ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ سے بند کر دیا ہے۔ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذو الفقاری نے آج ہفتہ کے روز کہا کہ امریکیوں کی بار بار غداری کے باعث آبنائے ہرمز دوبارہ اپنی سابقہ حالت میں لوٹ آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی اب بھی نام نہاد محاصرے کے تحت بحری قزاقی اور لوٹ مار کر رہے ہیں، لہٰذا آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ اپنی سابقہ حالت میں آ گیا ہے، اور یہ اسٹریٹجک گزرگاہ مسلح افواج کی سخت نگرانی اور کنٹرول میں ہے۔" ذوالفقاری نے زور دے کر کہا کہ جب تک امریکہ ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز اسی حالت میں رہے گی اور سخت نگرانی میں رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تہران نے حسنِ نیت کے تحت، پہلے سے طے شدہ مذاکراتی معاہدوں کی بنیاد پر، محدود تعداد میں تیل بردار جہازوں اور تجارتی کشتیوں کو منظم طریقے سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔
دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے سابقہ انتباہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "ہم نے آپ کو خبردار کیا تھا لیکن آپ نے توجہ نہیں دی، اب آبنائے ہرمز کی سابقہ صورتحال کی واپسی کا لطف اٹھائیں!" ادھر پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی قیادت نے آبنائے ہرمز کی نئی صورتحال پر کہا: "امریکہ کی جانب سے کسی بھی عہد شکنی کا مناسب جواب دیا جائے گا۔" انہوں نے مزید کہا: "جب تک ایران آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت خطرے میں رہے گی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اپنی سابقہ حالت پر برقرار رہے گی" یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران نے "آبنائے ایران" (ہر مز) کو مکمل طور پر کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے اور یہ مکمل آمدورفت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک "ہمارا معاملہ 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا"، اور توقع ظاہر کی کہ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہوگا۔ اس کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ محاصرہ جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے ایک ہی گھنٹے میں "سات دعوے کیے، اور یہ سب کے سب جھوٹے ہیں۔"