اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے آج، جنگی اخراجات سے متعلق "پینٹاگون" کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا۔ اس بارے میں انہوں نے كہا كہ پینٹاگون جھوٹ بول رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ "نیتن یاہو" کی جوئے بازی نے امریكہ كو ابھی تک براہِ راست 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جو پینٹاگون کی جانب سے بیان کردہ نقصان سے چار گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے امریکی ٹیکس دہندگان کے لئے بالواسطہ اخراجات بڑھ چکے ہیں۔ ہر امریکی گھرانے کو ماہانہ اوسطاََ 500 ڈالر تک ٹیکس کی صورت میں اس جنگ کی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے جو تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ "سب سے پہلے اسرائیل" کے نعرے کا مطلب "آخر میں امریکہ" ہے۔
واضح رہے كہ امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں فوجی اخراجات 25 ارب ڈالر ہیں۔ پینٹاگون کے اہلکار "جولز ہرسٹ" نے یہ نام نہاد رپورٹ امریکی کانگریس میں پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس خرچ کا زیادہ تر حصہ گولہ بارود سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ، CBS نیوز نے امریکی حکام کے حوالے سے جنگ کی لاگت کے دیگر اعداد و شمار بھی بتائے۔ اس نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کی حقیقی لاگت 25 ارب ڈالر کی بجائے 50 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں اور متعدد ممتاز ماہرین اقتصادیات نے بھی پہلے ہی کہا تھا کہ پینٹاگون کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات کا تخمینہ حقیقت سے بہت کم بتایا جا رہا ہے۔