ترجمان دفتر خارجہ: تہران کا فیصلہ یہ ہے کہ مذاکرات جنگ کے خاتمے پر متمرکز ہوں
38
M.U.H
01/05/2026
تہران: ترجمان دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا ایٹمی اور پابندیوں کے مسئلے میں سنجیدہ نہیں ہے اور اس نے ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے نسیم ٹی وی چینل کے پروگرام " میں ایرانی ہوں" میں ایران امریکا مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں گفتگو کی۔
انھوں نے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کہا کہ ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ عوام کو سچائی سے آگاہ کریں اور اگر امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوا تو ہم اس کی اطلاع دیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا جنگ کے خاتمے اور ایٹمی مسئلے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔
انھوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان شدید بدظنی پائی جاتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم نے جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے اور جنگ بندی کو جنگ کے خاتمے کی تمہید کی حیثیت سے قبول کیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے اسی طرح کہا کہ علاقائی ملکوں کوجان لینا چاہئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان کا دشمن نہیں ہے، انھوں نے ایران سے دشمنی اور امریکا پر اعتماد کا نتیجہ دیکھ لیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے تو ثالث پاکستان ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ بہت سے ممالک اس سلسلے میں مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن رسمی ثالث پاکستان ہی ہوگا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان کا طرز عمل متوازن اور اچھا رہا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی اور دوست ہے اور اس نے ثالثی کے تعلق سے اچھی توانائی دکھائی ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ نے جنگ شروع ہونے کے امکان کے بارے میں کہا کہ ہمیں ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ہم ماضی کے تجربے کو فراموش نہیں کرسکتے۔
انھوں نے کہا کہ دو بار ہمارے خلاف ایسی حالت میں حملہ کیا گیا کہ بظاہر مذاکرات میں کافی پیشرفت ہوچکی تھی چنانچہ عمان نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں کافی پیشرفت کرلی تھی۔