’دیدی آپ ہاری نہیں ہیں‘، ممتا بنرجی سے ملاقات کرنے کے بعد اکھلیش یادو کا ردعمل
41
M.U.H
07/05/2026
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کولکاتہ میں آج مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات کی۔ اس دوران اکھلیش یادو نے ممتا بنرجی سے کہا کہ ’’دیدی آپ ہاری نہیں ہیں۔‘‘ اس دوران ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے اکھلیش یادو کا گلے مل کر استقبال کیا۔
اس سے قبل کولکاتہ پہنچے سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں جو کچھ ہوا ہے وہ جمہوریت کو ختم کرنے کا طریقہ ہے۔ شاید کسی نے بھی جمہوریت کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا ہوگا جتنا بی جے پی نے پہنچایا ہے۔ بی جے پی کی آنکھوں میں دیدی کھٹکتی ہے، یہ لوگ کسی خاتون کو آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ یہاں ووٹنگ تو ضرور ہوئی ہے لیکن لوگوں نے اپنی مرضی سے زیادہ دباؤ میں آ کر ووٹ دیا ہے۔
کولکاتہ میں اکھلیش یادو نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی آنکھوں میں دیدی کھٹکتی ہے کیونکہ وہ نصف آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ بی جے پی کی سوچ جاگیردارانہ ہے، ان کے لوگ پدرشاہی ذہنیت کے ہیں یہ لوگ خاتون کو بڑھتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اکھلیش یادو کے مطابق جتنے بھی ادارے ہیں ان کا کام ہے منصفانہ انتخاب کرانا لیکن ان تمام نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ جب اترپردیش میں ضمنی انتخاب ہوئے تو فوج کو تعینات کر کے ووٹنگ روک دی گئی تھی۔ بنگال میں جمہوریت کو برباد کرنے کا ایک طریقہ نکال لیا گیا ہے۔ یہاں ووٹنگ تو ہوئی ہے، لیکن لوگوں نے دباؤ میں آ کر ووٹ ڈالا ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بی جے پی بنگال میں اتنی نفرت بھری اور منفی سیاست کرے گی۔
اکھلیش یادو نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی لیڈران، افسران، تاجروں اور ٹھیکیداروں کا ’کثیر سطحی انتخابی مافیا‘ مغربی بنگال میں اپنا ’کھیل‘ کرنے کے بعد اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخاب میں کسی نئے منصوبہ کے ساتھ کام کریں گے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بنگال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر دھاندلی کیے جانے اور بڑی تعداد میں ووٹ کاٹے جانے کا الزام عائد کیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اس حوالے سے فوراً نوٹس لے اور بنگال ووٹنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج پورے ملک کے سامنے دستیاب کرائے جائیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب عدالتی کارروائی براہ راست ٹیلی کاسٹ کی جا سکتی ہے تو ووٹوں کی گنتی کے عمل کا کیوں نہیں؟ انہوں نے گزشتہ کئی اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخابات میں ہار جیت کے فرق کے اعداد و شمار کا گراف پیش کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے سنگین الزامات عائد کیے اور کہا کہ مغربی بنگال میں جو کچھ ہوا ہے، سماجوادی لوگ اس کا پہلے ہی سامنا کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کی 143 اسمبلی نشستوں پر ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تحت 20-20 ہزار سے زائد ووٹ کاٹے گئے اور ان میں سے 91 نشستیں بی جے پی جیت گئی۔