پیپر لیک معاملہ: نیٹ یو جی کا امتحان منسوخ، تحقیقات سی بی آئی کے حوالے
13
M.U.H
12/05/2026
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان منسوخ کر دیا ہے۔ یہ امتحان 3 مئی 2026 کو منعقد ہوا تھا، لیکن پیپر لیک ہونے کی خبر کے بعد ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے این ٹی اے نے امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایجنسی نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والا نیٹ یو جی امتحان اب دوبارہ لیا جائے گا۔ امتحان کے لیے نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
این ٹی اے نے کہا کہ یہ فیصلہ 10 مئی 2026 کی پریس ریلیز کے تسلسل میں لیا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق، 8 مئی کو امتحان سے متعلق معاملات کو آزادانہ جانچ اور ضروری کارروائی کے لیے مرکزی ایجنسیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مرکزی تفتیشی ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے موصول ہونے والے اِن پٹس اور جانچ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی جانچ کے بھی احکامات صادر کر دیے گئے ہیں۔
ایجنسی نے کہا کہ امتحان کے نظام میں شفافیت برقرار رکھنے اور منصفانہ و قابل اعتماد امتحان یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ این ٹی اے کے مطابق اب ’نیٹ یو جی 2026‘ امتحان دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔ امتحان کے لیے نئی تاریخ اور ایڈمٹ کارڈ جاری کرنے کا شیڈول، اور دیگر ضروری معلومات جلد ہی ایجنسی کی سرکاری ویب سائٹ اور دیگر سرکاری ذرائع سے جاری کی جائیں گی۔ این ٹی اے نے طلبا، والدین اور عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری اطلاعات پر ہی بھروسہ کریں۔
قابل ذکر ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے اب تک 45 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ معاملے میں کئی ریاستوں میں چھاپے اور پوچھ تاچھ جاری ہے۔ پیر تک اس معاملے میں 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس بار نیٹ امتحان میں تقریباً 22 لاکھ طلبا نے حصہ لیا تھا۔ اب پیپر لیک معاملے کی جانچ میں راجستھان پولیس کا اسپیشل آپریشن گروپ 2 بڑے زاویوں پر کام کر رہا ہے۔ پہلا یہ کہ امتحانی سوالنامہ پرنٹنگ اور پریس میں چھپائی کے دوران لیک ہوا ہو سکتا ہے۔ دوسرا، جانچ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ پیپر سیٹ کرنے سے جڑے کسی شخص کی جانب سے بھی سوالنامہ لیک کیا گیا ہو سکتا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے اس کیس کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امتحان سے پہلے طلبہ کے درمیان ایک ایسا گیس پیپر پہنچا تھا، جس میں شامل 720 میں سے تقریباً 600 نمبر کے سوالات اصل امتحان سے لفظ بہ لفظ میل کھا رہے تھے۔
3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی امتحان کے بعد سامنے آنے والے اس دعوے نے لاکھوں طلبہ اور والدین کی تشویش بڑھا دی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) نے جانچ شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، انٹیلی جنس بیورو (IB) سے ملنے والے اِن پٹس کی بنیاد پر ایس او جی نے دہرادون، سیکر اور جھنجھنو میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں سیکر کے ایک مشہور کوچنگ ادارے سے وابستہ کیریئر کاؤنسلر بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ امتحان سے دو دن پہلے ہی مبینہ گیس پیپر منتخب طلبہ تک پہنچا دیا گیا تھا۔ ابتدائی جانچ میں اشارے ملے ہیں کہ سوالنامے کے بڑی تعداد میں سوالات مبینہ پیپر سے میل کھاتے ہیں۔ ایس او جی اب اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ صرف اتفاق تھا یا پھر امتحان سے جڑی کسی منظم لیک یا دھاندلی کا حصہ۔
راجستھان ایس او جی کی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ گیس پیپر میں تقریباً 410 سوالات تھے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے تقریباً 150 سوالات، جو کل 600 نمبروں کے تھے، لفظ بہ لفظ نیٹ یو جی 2026 کے اصل سوالنامے میں پوچھے گئے تھے۔ نیٹ یو جی امتحان کل 720 نمبروں کا ہوتا ہے اور ہر سوال 4 نمبروں کا ہوتا ہے، ایسے میں اتنی بڑی سطح پر سوالات کا میل کھانا انتہائی سنگین مانا جا رہا ہے۔ جانچ سے جڑے ذرائع کے مطابق، مبینہ ’کویسٹن بینک‘ کا لنک ایک ایسے نوجوان سے جڑ رہا ہے، جو فی الحال کیرالہ کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔