حکومت نے جاری کیا ’وی بی-جی رام جی‘ ایکٹ کا نوٹیفکیشن، یکم جولائی سے پورے ملک میں ہوگا نافذ
22
M.U.H
11/05/2026
مرکزی حکومت نے ایک نیا دیہی روزگار قانون ’وی بی-جی رام جی ایکٹ، 2025‘ کے متعلق سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ یہ قانون یکم جولائی 2026 سے ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔ یہ نیا قانون موجودہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ لے گا۔ اس نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد دیہی روزگار نظام میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
مرکزی وزارت دیہی ترقی کے مطابق یہ نیا ڈھانچہ دیہی روزگار کو صرف مزدوری تک محدود نہیں رکھے گا، بلکہ گاؤں میں بنیادی ڈھانچے اور ذریعہ معاش پر مبنی اثاثوں کی تعمیر پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔ مرکزی وزیر برائے زراعت و دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ منصوبہ دیہی ہندوستان کے لیے نئی صبح ثابت ہوگی۔ بھوپال میں میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت دیہی خاندانوں کو ہر سال 125 دنوں کے روزگار کی گارنٹی دی جائے گی، جبکہ منریگا میں یہ حد 100 دنوں کی تھی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ منریگا کے تحت جاری تمام ادھورے پروجیکٹ یکم جولائی تک پورے کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی ریاستوں کو نیا نظام نافذ کرنے کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ حالانکہ جولائی کے بعد دیہی روزگار سے متعلق فنڈنگ صرف ’وی بی-جی رام جی‘ فریم ورک کے تحت ہی جاری ہوگی۔ اس منصوبہ کے لیے مرکزی حکومت نے بجٹ میں 95 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا التزام کیا ہے۔ ریساتوں کی حصہ داری جوڑنے پر کل سالانہ اخراجات 1.51 ٹریلین روپے سے زائد رہنے کا اندازہ ہے۔ اس کے تحت پانی کے تحفظ کے منصوبے، دیہی سڑکیں، پل، اسکول کی عمارتیں، آنگن واڑی مراکز اور زراعت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او) کے لیے کام کی جگہیں اور شیڈ جیسے اثاثے بھی بنائے جائیں گے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریٹینگ وال اور دیگر آفات سے نمٹنے والی تعمیرات کو بھی اس منصوبہ میں شامل کیا گیا ہے۔
مرکزی حکومت نے مزدوروں کی ادائیگی کو لے کر بھی بڑا دعویٰ کیا ہے۔ مزدوری براہ راست بینک یا ڈاک گھر کھاتوں میں ’ڈی بی ٹی‘ کے ذریعہ بھیجی جائے گی۔ حکومت کا مقصد 3 دنوں کے اندر ادائیگی کرنے کا ہے، جبکہ زیادہ زیادہ کی حد 15 دن طے کی گئی ہے۔ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مزدوروں کو معاوضہ ملے گا اور مطالبہ کے باوجود روزگار نہ ملنے پر بے روزگاری بھتہ دیا جائے گا۔ منصوبہ کو بہتر طور سے چلانے کے لیے انتظامی اخراجات کی حد 6 فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے فیلڈ اسٹاف کو وقت پر تنخواہ اور بہتر وسائل مل سکیں گے۔